0
Friday 2 Jan 2026 02:57

بحران سازی، شیطانی ریاست کی بقا کا آخری حربہ

بحران سازی، شیطانی ریاست کی بقا کا آخری حربہ
خصوصی رپورٹ: 

تل ابیب بخوبی جانتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے تسلسل کے ساتھ عالمی توجہ بدستور فلسطین پر مرکوز رہے گی۔ تسنیم نیوز کے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صہیونی رجیم کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا حالیہ اقدام، اس رجیم کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے مقابلے میں شدید مایوسی اور اضطراب کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی قدم، وہ بھی ایک سرکش رجیم کی خارجہ پالیسی کے دائرے میں، درحقیقت دو بنیادی اسٹریٹجک مقاصد کو بے نقاب کرتا ہے، جن میں پہلا تنہائی سے فرار ہے۔ ایسے اقدامات کا فوری اور مرکزی ہدف اُس بین الاقوامی تنہائی سے نکلنے کی کوشش ہے جو غزہ میں بار بار ہونے والے، دستاویزی جرائم اور انسانی حقوق کی وسیع و منظم پامالی کے نتیجے میں تل ابیب پر مسلط ہوئی ہے۔

یہ تنہائی اب صرف اسلامی ممالک یا اقوامِ متحدہ تک محدود نہیں رہی، بلکہ مغربی دارالحکومتوں میں وسیع عوامی احتجاجات اور عالمی رائے عامہ میں تبدیلیوں نے اس رجیم کے سیاسی ڈھانچوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ صہیونی رجیم نئی جغرافیائی-سیاسی سازشوں اور حاشیائی یا متنازع علاقوں و کرداروں، جیسے صومالی لینڈ یا حالیہ عرصے میں تائیوان پر توجہ، جو چین مخالف بلاکس سے ہم آہنگی کی خواہش کی علامت ہے، ان روابط کے ذریعے نئی حاشیہ سازی کرنا چاہتا ہے، تاکہ عالمی سطح پر اپنی تنہائی کم کر سکے۔ تاہم یہ کوششیں ناکامی سے دوچار رہیں گی۔ عالمی برادری میں بین الاقوامی صہیونیت کی ماہیت اور کارکردگی کے خلاف غصہ کوئی عارضی سیاسی کیفیت نہیں بلکہ ایک اخلاقی مؤقف ہے، جو ہر نئے جارحانہ اقدام کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔

کسی غیر تسلیم شدہ خودمختار علاقے کے ساتھ تعلقات قائم کرنا، اس رجیم کی سفارتی طاقت نہیں بلکہ اس کی سرکشی ہی کو نمایاں کرتا ہے۔ دوسرا ہدف، جس کی جغرافیائی-سیاسی جہت کہیں زیادہ گہری ہے، وہ عالمی نظام میں اسٹریٹجک بحرانوں کی تخلیق سے متعلق ہے۔ تل ابیب بخوبی آگاہ ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے تسلسل اور جنگی جرائم میں شدت کے باعث عالمی توجہ فلسطین پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ اسی لیے اس کے سیاست دان متبادل ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ان نئے بحرانوں کی جغرافیائی-سیاسی صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر عالمی معادلات میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، صہیونیت دنیا کے مختلف خطوں، افریقہ کے شاخ سے لے کر بحیرۂ جنوبی چین تک، خطے میں علاقائی تنازعات کو ہوا دی رہی ہے۔

ان سازشوں کا مقصد عوامی رائے اور ریاستوں کی توجہ فلسطین کے جاری بحران سے ہٹانا ہے، اور بیک وقت خود کو متنازع علاقوں میں توازن قائم کرنے کے لیے ایک لازم عنصر کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ حکمتِ عملی، جو بقا کے لیے بحران سازی پر مبنی ہے، اس رجیم کو عالمی منظرنامے میں ایک متحرک مگر محض تخریبی کردار میں بدل دیتی ہے۔ یہ رویہ خطے یا دنیا کے لیے امن و سلامتی لانے کے بجائے صرف نئے اسٹریٹجک الجھاؤ پیدا کرتا ہے، جن کے نتائج سے خود یہی رجیم مستقبلِ قریب میں دوچار ہوگا۔ بالآخر، ایسی پالیسیاں صہیونیت کی حقیقی ماہیت کو آشکار کرتی ہیں: ایک عالمی طغیانی قوت جو اپنی بقا کو عدمِ استحکام کی پیداوار میں دیکھتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 1257017
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش