0
Wednesday 3 Jun 2026 15:54

امام خمینیؒ اور تحریکِ فلسطین

امام خمینیؒ اور تحریکِ فلسطین
تحریر: ڈاکٹر صابر ابومریم 
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان  


فلسطین کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کا وہ سلگتا ہوا باب ہے جس نے طویل عرصے تک مظلومیت اور بے بسی کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ ایک وقت وہ تھا جب فلسطینیوں کی آواز کو دبا دیا گیا تھا اور عالمی طاقتیں اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے درپے تھیں۔ یہی کوشش آج بھی کسی نہ کسی صورت میں کبھی صدی کی ڈیل اور کبھی ابراہیمی معاہدوں کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ بہرحال فلسطین پر سنہ 1948ء سے قبضہ کے بعد سے مسلسل کئی سالوں تک فلسطین کی آواز کو مسلسل دبانے کی کوشش کی گئی اور اسرائیل کو خطے میں ایک بدمعاش کی حیثیت دی گئی۔ ایسے مایوس کن حالات میں کہ جب ہر طرف فلسطینی مظلوموں کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں اور ایک طرف سرمایہ دارانہ نطام تھا تو دوسری طرف کمیونزم کا نظام تھا جو دنیا کے تمام ممالک کے لئے چیلنج تھا کہ اگر دنیا میں رہنا ہے تو ان کے ساتھ رہنا ہوگا۔ اسی زمانہ میں اسرائیل کے ذریعہ تین عرب اسرائیل جنگیں ہوچکی تھیں اور امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر استعماری قوتوں نے عرب حکومتوں کو باور کروا دیا تھا کہ وہ اسرائیل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ یہ تمام صورتحال دیکھ کر فلسطینی عوام اور ان کی آزادی کی تحریک بھی دم توڑ چکی تھی۔

ایسے حالات میں ایران میں امام خمینیؒ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ڈوبتی ہوئی تحریکِ فلسطین کو نہ صرف ایک مضبوط سہارا دیا، بلکہ اسے ایک نئی جہت، ولولہ اور انقلابی روح بھی عطا کی۔ آج جب ہم دنیا کے نقشے پر فلسطین کے حق میں اٹھنے والے عالمی طوفان کو دیکھتے ہیں، تو امام خمینیؒ کے وہ تاریخی جملے اور پیش گوئیاں یاد آتی ہیں جو اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل، مسئلہ فلسطین کو محض ایک عرب قوم پرستی یا زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ تحریک بتدریج کمزور اور عالمی سطح پر تنہا ہو رہی تھی۔ امام خمینیؒ نے اس منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ انہوں نے فلسطین کو صرف عربوں کا نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور دنیا کے تمام مظلوموں کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یومِ القدس قرار دیا، جس نے اس تحریک کو جغرافیائی حدود سے نکال کر بین الاقوامی بنا دیا۔

امام خمینی نے انقلاب کی کامیابی کے بعد فوری طور پر تہران میں موجود اسرائیل کے سفارتخانہ کو بند کیا اور وہاں فلسطین کا سفارتخانہ قائم کرتے ہوئے فلسطینی پرچم کو بلند کیا۔ یہ اس وقت کی دنیا میں پہلی مرتبہ ہو رہا تھا کہ ڈوبتی ہوئی فلسطینی تحریک آزادی کو نئی زندگی مل رہی تھی۔ اسی زمانہ میں ہی امام خمینیؒ نے فلسطینی عوام کے اندر یہ شعور بیدار کیا کہ وہ بیرونی بیساکھیوں اور عالمی اداروں کے کھوکھلے وعدوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی ذاتی طاقت اور ایمانی جذبے پر بھروسہ کریں۔ اس نئی جہت کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطین کے نوجوانوں نے ہاتھوں میں پتھر اٹھا کر انتفاضہ کی بنیاد رکھی، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمت میں تبدیل ہوگئی۔ آج اسی مزاحمت کو ہم کہیں حماس کی صورت میں اور کہیں جہاد اسلامی کی صورت میں فلسطین کا دفاع کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

امام خمینیؒ کا ایک مشہور اور بصیرت افروز فرمان ہے کہ اگر فلسطینی کھڑے ہو جائیں، تو دنیا ان کی پشت پر کھڑی ہو جائے گی۔ یہ جملہ اس دور میں کہا گیا تھا جب فلسطینی عوام خود کو تنہا اور بے یارومددگار محسوس کر رہے تھے، لیکن آج بیداری کی وہ لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ امام خمینیؒ کی یہ پیشن گوئی جو پچاس سال قبل یاسر عرفات کے ساتھ ملاقات میں بیان کئے گئے الفاظ تھے وہ عین تحقق پارہی ہے۔ یعنی آج فلسطینی مزاحمت نے ثابت کیا ہے کہ اگر آپ کھڑے ہوجائیں اور مقابلہ کریں تو پھر دنیا بھر کے لوگ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں اور آج پوری دنیا کے عوام اور اقوام فلسطین عوام کی تحریک آزادی کا حصہ بن چکے ہیں۔

فلسطینی عوام نے غاصب صیہونی حکومت کے مظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور بے مثال پائیداری کا مظاہرہ کیا، ان کے اس کھڑے ہو جانے کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ آج امام خمینیؒ کی یہ پیش گوئی سو فیصد سچ ثابت ہو رہی ہے کہ اب فلسطین کی حمایت صرف مسلم ممالک تک محدود نہیں رہی، بلکہ امریکہ، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے دارالحکومتوں میں لاکھوں کے مجمعے فلسطینی پرچم اٹھا کر صیہونی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ مغربی دنیا کی نامور جامعات (جیسے ہارورڈ، کولمبیا اور آکسفورڈ) کے طلبہ اور پروفیسرز فلسطین کے حق میں کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نئی نسل اب جھوٹے صیہونی پروپیگنڈے کو مسترد کر چکی ہے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی فورمز پر غاصب حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا چکا ہے، اور دنیا بھر کے شعورِ انسانی نے فلسطین کے بیانیے کو تسلیم کر لیا ہے۔

امام خمینیؒ اسرائیل کو ایک سرطانی پھوڑا قرار دیتے تھے جس کا واحد حل مزاحمت اور اتحاد ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر تمام مسلمان متحد ہو کر اپنا حصہ ڈالیں تو باطل کو مٹایا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ قول آج بھی رہنما اصول ہے کہ اگر تمام مسلمان مل کر ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈالیں تو اسرائیل بہہ جائے گا۔ آج فلسطین میں جاری حالیہ مزاحمتی تحریکوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صیہونی طاقت کا ناقابلِ تسخیر ہونے کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کی قربانیوں نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب غاصبانہ قبضے کا خاتمہ ہوگا اور فلسطین کے اصل وارث اپنے وطن میں آزادانہ سانس لے سکیں گے۔ امام خمینیؒ نے تحریکِ فلسطین کے مرجھائے شجر کو اپنے افکار اور اصولی موقف سے جو زندگی بخشی تھی، آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کے اندر پیدا ہونے والی نئی جہت اور دنیا بھر میں ان کی بے مثال حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بانِی انقلاب کی بصیرت افروز پیش گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حق کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے، تو باطل کی بڑی سے بڑی دیوار بھی ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے، اور آج کا فلسطین اس کی زندہ مثال ہے۔
خبر کا کوڈ : 1283679
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش