0
Wednesday 3 Jun 2026 23:50

پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ سکردو: اعتراضوں کے طوفان سے کامیابی کے ساحل تک

پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ سکردو: اعتراضوں کے طوفان سے کامیابی کے ساحل تک
تحریر: آغا زمانی

الحمدللہ، پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ اپنی کامیابی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور واٹر چینل کے ذریعے پانی سدپارہ ڈیم تک پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔ یہ خبر صرف ایک منصوبے کی کامیابی نہیں بلکہ اس عزم، اخلاص اور اجتماعی جدوجہد کی کامیابی ہے جس کا خواب چند سال قبل دیکھا گیا تھا۔ سال 2023ء میں جب سکردو شہر شدید آبی بحران کا شکار تھا، لوگ پانی کی قلت سے پریشان تھے اور مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے تھے، ایسے وقت میں صدر انجمنِ امامیہ بلتستان حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید باقر الحسینی نے ایک دور اندیش اور عوامی نوعیت کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کو "پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ" کا نام دیا گیا۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے ایک جرات مندانہ قدم قرار دیا جبکہ بعض حلقوں نے اس منصوبے کی کامیابی پر سوالات بھی اٹھائے۔

حقیقت یہ ہے کہ دیوسائی جیسے دشوار گزار اور بلند ترین علاقوں میں کسی بڑے منصوبے پر کام کرنا آسان نہیں۔ وہاں سال کے بیشتر مہینوں میں برف جمی رہتی ہے، شدید سردی اور نامساعد موسمی حالات کی وجہ سے کام جاری رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ عملی طور پر جولائی اور اگست کے دو مہینے ہی ایسے ہوتے ہیں جن میں تعمیراتی سرگرمیاں انجام دی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ منصوبے کی مدت تقریباً تین سال پر محیط رہی، لیکن مجموعی طور پر کام کے دن چند مہینوں سے زیادہ نہیں بنتے۔

ان تمام مشکلات کے باوجود کارکنوں، انجینئرز، عوام اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں سے تقریباً گیارہ کلومیٹر طویل واٹر چینل تعمیر کیا گیا۔ آج اسی چینل کے ذریعے تقریباً سو کیوسک پانہ سدپارہ ڈیم میں شامل ہونا شروع ہوگیا ہے۔ واٹر چینل پر مجموعی طور پر تقریباً 11 کلومیٹر تک تعمیراتی کام کیا گیا ہے، جبکہ اس میں سیمنٹ کا کام تقریباً 8 ہزار فٹ کی مسافت تک مکمل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر ضروری تعمیراتی اور حفاظتی کام انجام دیئے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے ثمرات نہ صرف آج بلکہ آنے والے برسوں میں بھی سکردو کے عوام محسوس کریں گے۔

گزشتہ سال اس چینل کو ابتدائی طور پر کھول دیا گیا تھا اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے تھے۔ اب جبکہ پانی باقاعدہ طور پر ڈیم تک پہنچ رہا ہے تو یہ منصوبہ اپنی افادیت کو مزید واضح انداز میں ثابت کررہا ہے۔ سکردو جیسے تیزی سے بڑھتے ہوئے شہر کے لیے پانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ منصوبہ مستقبل میں پانی کے مسائل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس منصوبے کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف ایک ادارے یا فرد کا منصوبہ نہیں بلکہ پوری قوم کے تعاون سے پایۂ تکمیل تک پہنچا ہے۔ عوام نے مالی، اخلاقی اور عملی ہر سطح پر اس کا ساتھ دیا۔ گلگت بلتستان حکومت نے بھی تعاون کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ گلبر خان کے دور میں پندرہ کروڑ روپے کی منظوری دی گئی جن میں سے نو کروڑ روپے سے زائد کی رقم منصوبے کو فراہم کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سرکاری اداروں نے بھی بھرپور معاونت کی۔

پاک فوج، خصوصاً ایف سی این اے کے کمانڈر میجر جنرل سید امتیاز گیلانی اور 62 بریگیڈ کی توجہ اور تعاون بھی اس منصوبے کی کامیابی میں اہم ثابت ہوا۔ ان تمام شخصیات اور اداروں نے اس عوامی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کی، جس پر عوام ان کے شکر گزار ہیں۔ صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے اس کامیابی کے موقع پر تمام عوام، مخیر حضرات، سرکاری اداروں، انتظامیہ، پاک فوج اور منصوبے سے وابستہ ہر فرد کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل عوام کے اعتماد اور اجتماعی تعاون کا نتیجہ ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ابھی منصوبے پر کچھ مزید کام باقی ہے۔ دیوسائی میں برف پگھلنے اور موسم بہتر ہونے کے بعد مشینری اور گاڑیاں دوبارہ موقع پر پہنچائی جائیں گی۔ توقع ہے کہ جون کے آخر تک تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوجائیں گی اور باقی ماندہ کام مکمل کرلیا جائے گا۔ ان شاء اللہ اگست میں اس عظیم منصوبے کا باقاعدہ افتتاح بھی متوقع ہے۔ اس منصوبے کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ اس نے اتحاد بین المسلمین کی عملی مثال پیش کی۔ مکتب تشیع کے ساتھ ساتھ دیگر مسالک کے افراد نے بھی اس منصوبے کی حمایت کی اور اسے سکردو کے عوامی مفاد کا منصوبہ سمجھتے ہوئے تعاون کیا۔ یوں یہ منصوبہ صرف پانی کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ اتحاد، اخوت اور اجتماعی خدمت کی علامت بھی بن گیا۔

جب اس منصوبے کا اعلان کیا گیا تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوگا، وسائل ضائع ہوجائیں گے اور اتنے دشوار گزار علاقے میں کام ممکن نہیں۔ لیکن آج پانی کا سدپارہ ڈیم تک پہنچ جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو، قیادت مخلص ہو اور عوام اپنے رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہوں تو بڑے سے بڑا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔ پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ دراصل اس حقیقت کا نام ہے کہ قومیں صرف تنقید سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ترقی کرتی ہیں۔

آغا سید باقر الحسینی کی قیادت میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہے کہ عوامی خدمت کا جذبہ، اجتماعی تعاون اور مضبوط ارادہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عوامی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دیا جائے اور اجتماعی مفاد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے۔ کیونکہ جب قوم متحد ہو، قیادت مخلص ہو اور مقصد عوامی فلاح ہو تو کامیابی یقیناً قدم چومتی ہے۔ پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ اسی کامیابی کی ایک روشن اور قابلِ فخر مثال ہے۔
خبر کا کوڈ : 1283686
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش