0
Thursday 4 Jun 2026 00:09

جنگ کے آغاز سے اب تک 468 بحرینی شیعہ زیرحراست

جنگ کے آغاز سے اب تک 468 بحرینی شیعہ زیرحراست
خصوصی رپورٹ:

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق ادارے بحرین لبریشن موومنٹ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی حکام نے محرم سے قبل شیعہ علماء، خطیبوں، مرثیہ خوانوں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردی، طلبی اور دھمکیوں کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس انسانی حقوق ادارے نے مزید کہا کہ بحرین میں متعدد مذہبی خطیبوں اور مرثیہ خوانوں کو طلب کر کے مجبور کیا گیا ہے کہ وہ محرم کی دہائی کی تقریبات میں اپنی شرکت محدود کریں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ تقاریر 40 منٹ سے زیادہ نہ ہوں، بعض نعرے نہ لگائے جائیں، شیعوں کی تنقید کی حامل تاریخی شخصیات کے بارے میں بات نہ کی جائے، اور سیاسی قیدیوں کے بارے میں بھی رائے نہ دی جائے۔

بحرین لبریشن موومنٹ نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ بحرینی سیکیورٹی فورسز نے سیاسی کارکن ہاشم الموسوی کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔ نیز معروف مرثیہ خوان عیسی نزار الدرازی کو علاقے الدراز میں ان کے گھر پر چھاپے کے بعد حراست میں لیا گیا ہے، اور احمد قربان کو منامہ میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دیگر افراد بشمول راضی القطری، حاج جمیل العقیفہ، حاج فخری رشید اور حاج احمد الرئیس بھی گرفتاریوں کی نئی لہر میں نشانہ بنائے گئے ہیں۔ اس ادارے نے مزید بتایا کہ آٹھ بحرینی شہریوں کو امام محمد باقر (ع) کی مجلس کی تقریب میں شرکت کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

نیز کم عمر شہری مصطفی یوسف المقاوی کو بھی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے طلبی کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ اس سے امام محمد جواد (ع) کی مجلس کی تقریب میں شرکت کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ بحرین لبریشن موومنٹ نے اپنی رپورٹ کے ایک حصے میں شیعہ علماء کی گرفتاریوں کی لہر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ شیخ جعفر عاشور، سید یاسین الموسوی اور شیخ نذیر المالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ شیخ باقر الحواج کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا ہے اور شیخ علی المسترشد پر حملہ کر کے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

اس انسانی حقوق ادارے نے بحرین حکومت کے شہریوں کے ایران اور عراق کے سفر پر پابندی لگانے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ اقدام محرم کے مہینے کے موقع پر اور بحرین کے بہت سے شیعوں کے عراق میں سیدالشہداء (ع) کی عزاداری کی تقریبات میں شرکت کے سفر کے ساتھ ہی اٹھایا گیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے 468 شہریوں کی گرفتاریاں جاری ہیں۔ بحرین لبریشن موومنٹ نے اس اقدام کو بحرین کی مقامی شیعہ آبادی پر دباؤ کے وسیع تر عمل کا حصہ قرار دیا اور لکھا کہ یہ عمل اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب بحرین حکومت امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پچھلے چند دنوں میں گرفتاریوں کی لہر جاری رہی اور حسین عبدالنبی العصفور، علی زہیر شعبان اور سید جعفر یوسف ان افراد میں شامل ہیں جو گرفتار کیے گئے۔ قابل ذکر ہے کہ سید جعفر یوسف دو ماہ قبل ایک سال کی قید کاٹ کر جیل سے رہا ہوئے تھے۔ اس ادارے نے پچھلے ہفتے بحرین کے متعدد دیگر شہریوں کی گرفتاری کی بھی خبر دی اور محمد احمد سرحان، محمد حماد، رضا ابراہیم، محمد صالح الاسکافی اور عبداللہ ماجد سمیت ناموں کا تذکرہ گرفتار شدگان کی فہرست میں کیا۔ اس انسانی حقوق ادارے کے اندازے کے مطابق، ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے آغاز سے اب تک 468 بحرینی شہری گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں خواتین اور مذہبی علماء بھی شامل ہیں۔

اس انسانی حقوق ادارے نے اپنی رپورٹ کے ایک اور حصے میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اماراتی حکام نے گزشتہ برسوں میں وہاں مقیم افراد کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اب وہ شیعہ مذہبی علماء کے ایک گروپ کے مقدمے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بحرین لبریشن موومنٹ کی رپورٹ کے مطابق، متعدد شیعہ علماء اور شخصیات بشمول شیخ علی الہندی، سید عدنان الغریفی، سید علی العالی مقدمے کی زد میں ہیں۔ بحرین لبریشن موومنٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ عمل امارات کا فلسطین پر قابض حکومت کے ساتھ اتحاد کا نتیجہ ہے اور اسے شیعوں کے خلاف سیاسی اور مذہبی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 1283734
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش