0
Wednesday 8 Jul 2026 05:27

شہید رہبر معظم آیت اللہ امام خامنہ ای کی عظیم تشییع اور تاریخ کے ماتھے پر ثبت چند ابدی پیغامات

شہید رہبر معظم آیت اللہ امام خامنہ ای کی عظیم تشییع اور تاریخ کے ماتھے پر ثبت چند ابدی پیغامات
تحریر: محمد حسن جمالی
 
تاریخ ہمیشہ جنگوں، معاہدوں اور انقلابات سے نہیں بنتی، بلکہ بعض اوقات تاریخ کا رخ ایک جنازہ بھی متعین کر دیتا ہے۔ دنیا نے گزشتہ صدی میں کئی حکمرانوں کی رخصتی دیکھی، بے شمار سربراہان مملکت کو سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن ہوتے دیکھا، لیکن کچھ جنازے ایسے ہوتے ہیں، جو سرکاری پروٹوکول سے نہیں، عوام کے دلوں سے اٹھتے ہیں۔ ایسے جنازے قوموں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو یہ بتاتے ہیں کہ کسی شخصیت کی اصل عظمت کا پیمانہ اس کا عہدہ نہیں، بلکہ وہ محبت، اعتماد اور فکری وابستگی ہے، جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ شہید رہبر معظم کی عظیم تشییع بھی انہی تاریخی مناظر میں سے ایک تھی۔ لاکھوں انسانوں کا ایک ہی جذبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آنا، گھنٹوں بلکہ بعض مقامات پر کئی کئی دن انتظار کرنا، آنکھوں میں آنسو اور دلوں میں عزم لیے اپنے قائد کو الوداع کہنا، صرف ایک جذباتی منظر نہیں تھا۔

یہ ایک خاموش ریفرنڈم تھا، ایسا ریفرنڈم، جس میں ووٹ کاغذ پر نہیں بلکہ انسانوں کے قدموں، آنسوؤں اور دعاؤں نے ڈالے۔ آج کی دنیا میں عوامی رائے کو جانچنے کے لیے سروے کیے جاتے ہیں، اعداد و شمار اکٹھے کیے جاتے ہیں اور میڈیا کے ذریعے رجحانات معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن بعض اوقات ایک منظر ہزار سروے پر بھاری ہوتا ہے۔ جب لاکھوں لوگ کسی رہنماء کو آخری سلام پیش کرنے نکل کھڑے ہوں تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس رہنماء نے صرف حکومت نہیں کی بلکہ دلوں میں جگہ بنائی۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی محبت پیدا کیسے ہوتی ہے۔؟ کیا یہ سرکاری اشتہارات سے پیدا ہوتی ہے۔؟ کیا اسے طاقت کے زور پر قائم رکھا جا سکتا ہے۔؟ کیا خوف لوگوں کو آنسو بہانے پر مجبور کرسکتا ہے۔؟ تاریخ کا جواب نفی میں ہے۔ خوف لوگوں کو خاموش تو کرسکتا ہے، محبت کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ یاد رکھیں کہ محبت ہمیشہ کردار، اخلاص، سادگی اور استقامت کا صلہ ہوتی ہے۔
 
رہبرِ معظم کی عظیم و بے نظیر تشییع تاریخ کے ماتھے پر چند اہم ابدی پیغامات ثبت کرگئیں۔ اس کا پہلا اور سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ کردار کی طاقت ہر طاقت سے بڑی ہوتی ہے۔ اقتدار وقتی ہوتا ہے، لیکن کردار دائمی ہوتا ہے۔ دنیا نے ایسے حکمران بھی دیکھے، جن کے محلات ان کی زندگی میں آباد تھے، مگر ان کی قبروں پر خاموشی چھا گئی۔ جیسے صدام حسین اور رضا شاہ کی قبریں۔ دوسری طرف ایسے قائد بھی گزرے، جن کے پاس دنیاوی وسائل کم تھے، لیکن ان کی وفات کے بعد انسانوں کا سمندر امڈ آیا، جیسے امام راحل رضوان اللہ علیہ۔ یہ فرق کردار پیدا کرتا ہے۔ دوسرا پیغام یہ ہے کہ نظریات کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع ابلاغ میں کتنی ہی مرتبہ یہ اعلان کیا گیا کہ فلاں فکر ختم ہوگئی، فلاں تحریک دم توڑ گئی اور فلاں نظریہ اب ماضی کا قصہ ہے۔

مگر وقت نے ہر مرتبہ ثابت کیا کہ اگر کسی فکر کی بنیاد ایمان، اخلاص اور قربانی پر ہو تو وہ اپنے حاملین کی وفات کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افراد رخصت ہوتے ہیں، مگر نظریات نسل در نسل منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ انسان صرف معاشی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نظریات کا زمانہ گزر چکا، اب صرف معیشت اور مفادات کی سیاست باقی رہ گئی ہے، لیکن رہبر معظم کی عظیم تشییعی عوامی اجتماعات جیسے اجتماعات اس نظریئے کو چیلنج کرتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ انسان صرف روٹی پر زندہ نہیں رہتا بلکہ اسے عزت، شناخت، مقصد اور امید بھی چاہیئے۔ اس تشییع نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی کہ قومیں اپنی مشترکہ یادداشت سے زندہ رہتی ہیں۔

جن قوموں کو اپنے محسن یاد رہتے ہیں، وہ کبھی راستہ نہیں بھولتیں، لیکن جو قومیں اپنے ہیروز کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ اپنی تاریخ بھی کھو دیتی ہیں اور اپنا مستقبل بھی۔ تشییع رہبر معظم کے منظر میں نوجوان نسل کے لیے بھی ایک پیغام تھا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ آج کا نوجوان صرف سوشل میڈیا، تفریح اور آسائش میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن جب ہزاروں نوجوان نظریاتی وابستگی کے ساتھ ایسے اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں تو یہ تصور ٹوٹ جاتا ہے۔ ہر نسل کے اندر خیر اور قربانی کا جذبہ موجود ہوتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ اسے ایک باکردار قیادت اور ایک بلند مقصد میسر آ جائے۔ قرآن مجید بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے:"مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ۔۔۔"، "یعنی اہل ایمان میں ایسے لوگ موجود ہیں، جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچائی کے ساتھ نبھایا۔" یہی وہ کردار ہے، جو انسان کو وقت کی گرد سے محفوظ رکھتا ہے۔
 
اس تشییع کا ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ آج دنیا میں میڈیا کو رائے عامہ بنانے کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات عوام خود میڈیا سے بڑا پیغام بن جاتے ہیں۔ لاکھوں انسانوں کا اجتماع ہر اس تجزیے کو چیلنج کرتا ہے، جو قوموں کی روح کو صرف اعداد و شمار میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں اس موقع پر اپنے معاشرے کا بھی جائزہ لینا چاہیئے۔ کیا ہمارے ہاں قیادت کا معیار کردار ہے یا دولت۔؟ کیا ہم اصولوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں یا وقتی مفادات کی بنیاد پر؟ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں یا باکردار انسان بھی۔؟ اگر یہ سوال ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیں تو اس تشییع کا ایک بڑا مقصد پورا ہو جائے گا۔

عظیم قائدین کی اصل میراث عمارتیں، سڑکیں یا منصوبے نہیں ہوتے بلکہ ان کی اصل میراث وہ انسان ہوتے ہیں، جو ان کے افکار سے روشنی لیتے ہیں، ان کے اصولوں پر چلتے ہیں اور ان کے بعد بھی ان کے مشن کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض شخصیات اپنی زندگی سے زیادہ اپنی وفات کے بعد مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ قومیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں، جب ان کے بڑے رہنماء دنیا سے رخصت ہوتے ہیں؛ بلکہ  قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں، جب وہ اپنے رہنماؤں کے اصول بھلا دیتی ہیں۔ اگر فکر باقی رہے، اگر مقصد زندہ رہے اور اگر نئی نسل اس امانت کو سنبھال لے تو شخصیات کی جدائی بھی قوموں کو شکست نہیں دے سکتی۔

رہبر معظم کی عظیم تشییع کو صرف ایک خبر، ایک تصویر یا ایک سیاسی واقعہ سمجھنا اس کے مفہوم کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ تو ایک ایسا منظر تھا، جس نے دنیا کو یاد دلایا کہ دلوں پر حکومت بندوقوں سے نہیں، کردار سے کی جاتی ہے؛ قومیں خوف سے نہیں، امید سے زندہ رہتی ہیں اور نظریات کی زندگی کا انحصار ان کے ماننے والوں کے اخلاص پر ہوتا ہے، نہ کہ ان کے مخالفین کی طاقت پر۔ شاید اسی لیے تاریخ کے بعض جنازے ختم نہیں ہوتے۔ وہ دفن ہونے کے بعد بھی چلتے رہتے ہیں، نسلوں کے ساتھ سفر کرتے رہتے ہیں اور ہر دور کے انسان سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ تم نے اپنے اصولوں کی قیمت کیا ادا کی۔؟
خبر کا کوڈ : 1290805
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش