1
Wednesday 8 Jul 2026 23:11

تہران سے نجف تک، مزاحمتی جغرافیہ میں اقتدار کی حکایت

تہران سے نجف تک، مزاحمتی جغرافیہ میں اقتدار کی حکایت
تحریر: فاطمہ محمدی
 
رہبر شہید انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا جسد مبارک عراق کے مقدس شہر نجف میں پہنچنے پر ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی اور وہ مذہبی پہلو کے ساتھ ساتھ سیاسی، جیوپولیٹیکل اور سماجی پہلووں پر بھی مشتمل ہیں۔ اگر تہران میں کروڑوں کی تعداد میں ایرانی شہریوں کی امام خامنہ ای شہید کے تشیع جنازے میں شرکت، ایک عظیم بحران کے بعد باہمی اتحاد اور وحدت کی علامت اور قم میں بھی کروڑوں کی شرکت اسی پیغام کا تکرار تھی تو آج عراق کے مقدس شہروں کربلا اور نجف میں رہبر شہید کے تشیع جنازے میں بڑے پیمانے پر شرکت اپنے ہمسایہ ممالک میں ایران کے سماجی، ثقافتی اور روحانی اثرورسوخ کے تسلسل کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے متعدد پیغام بھیجے ہیں۔
 
ایران کے خلاف تھونپی گئی حالیہ امریکی صیہونی جنگ کے بعد مغرب کے سیاسی حلقوں میں پائے جانے والا ایک اصلی ترین تجزیہ یہ تھا کہ ایران کو فوجی اور سیکورٹی دباو کے تحت انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کی جانب دھکیلا جا سکتا ہے۔ لیکن رہبر شہید کے تشیع جنازے میں جو کچھ پہلے تہران اور اس کے بعد قم، نجف اور کربلا میں رونما ہوا ہے اس نے حقیقت کا ایک الگ ہی رخ عیاں کر دیا ہے۔ عملی طور پر تشیع جنازے کا سلسلہ جغرافیائی سرحدوں سے عبور کر چکا ہے اور اب وہ اسلامی دنیا کا ایک اہم واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ محض عزاداری کی ایک تقریب کی حد تک باقی نہیں رہا بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی علامتی طاقت اور سماجی سطح پر آمادگی کی صلاحیت کا مظہر بن گیا ہے۔ نجف محض ایک مذہبی شہر نہیں ہے بلکہ اسلامی دنیا میں شیعہ تشخص کے ایک اہم ترین مرکز کے طور پا جانا جاتا ہے۔
 
اس شہر میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ قدرتی طور پر عراق کی سرحدوں سے باہر کے لیے خاص پیغام کا حامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر میں رہبر شہید انقلاب اسلامی کا تشیع جنازہ منعقد ہونا محض ایک جنازے کی تقریب نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ وسیع معنی و مفہوم رکھتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اسلامی دنیا کی رائے عامہ میں حوزہ علمیہ ایران اور حوزہ علمیہ عراق کے درمیان تاریخی تعلق کو نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو اس تقریب میں عراق کے اعلی سطحی حکام، مختلف شیعہ گروہوں کی معروف شخصیات، فوجی حکام، عرب اور اسلامی وفود نیز عوام کی جانب سے وسیع سطح پر شرکت سے یہ پیغام ملا ہے کہ تہران اور بغداد کے درمیان تعلقات بدستور وسیع حد تک اسٹریٹجک توانائیوں کے حامل ہیں۔
 
گذشتہ چند سالوں میں عراق کو ایران سے دور کرنے اور ان دوریوں کو خطے میں تہران کو کنٹرول دینے کے لیے استعمال کرنے کی بہت کوششیں انجام پائی ہیں لیکن آج نجف اور کربلا سے جو مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ ایران کو گوشہ نشین کرنے پر مبنی سازش ناکام ہو چکی ہے۔ امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم نے گذشتہ کئی سالوں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ایران خطے میں گوشہ نشین ہو چکا ہے اور تعلقات پر مبنی روایتی نیٹ ورک کھو چکا ہے۔ لیکن نجف میں متعدد سیاسی، مذہبی اور عوام وفود کی رہبر شہید کے تشیع جنازے میں موجودگی اور عراقی عوام کی بھرپور شرکت نے اس تاثر کو باطل کر دیا ہے۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک علامت، سرکاری سطح پر انجام پانے والے معاہدوں سے کہیں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔
 
نجف ایئرپورٹ پر عراق کے اعلی سطحی حکام کی موجودگی اور ایران کے صدر کا استقبال، عراق کی معروف سیاسی شخصیات کی شرکت اور مختلف عرب اور اسلامی وفود کی موجودگی وہ علامات ہیں جنہوں نے دو ممالک کے درمیان تعلقات کی سطح اور خطے میں ایران کا مقام واضح کر دیا ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ عراقی عوام میں ایران سے دوریاں پیدا ہو گئی ہیں لیکن اب حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عراقی معاشرے میں مختلف نقطہ نظر رکھنے والے افراد اور گروہ پائے جاتے ہیں لیکن رہبر شہید کے تشیع جنازے نے ثابت کر دیا کہ صرف ایک پہلو سامنے رکھ کر کسی معاشرے کے بارے میں فیصلہ کرنا درست نہیں ہے۔ جیوپولیٹیکل لحاظ سے بھی یہ تقریب بہت اہم پیغام کی حامل تھی۔
 
آج عراق علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا میدان بن چکا ہے۔ امریکہ، عرب ممالک، ترکی اور دیگر کھلاڑی اس ملک کے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ حصہ دار بننے کے لیے کوشاں ہیں۔ مزید برآں، اس تقریب کا جائزہ "نرم طاقت" کے تناظر میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ نرم طاقت کا سرچشمہ صرف ذرائع ابلاغ یا پبلک ڈپلومیسی ہی نہیں بلکہ مذہبی تقریبات، تاریخی دن اور عوامی جذبات بھی نرم طاقت کے اہم ترین سرچشموں میں شمار ہوتے ہیں۔ نجف اور کربلا میں رہبر شہید کا تشیع جنازہ اسی صلاحیت کی ایک مثال ہے جو فوجی ہتھکنڈہ بروئے کار لائے بغیر خطے کی اقوام کے درمیان موجود ثقافتی، تاریخی اور اعتقادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سخت طاقت کے ساتھ نرم طاقت سے بھی برخوردار ہے۔
خبر کا کوڈ : 1290988
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش