0
Monday 27 Jul 2026 16:37

قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال(2)

قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال(2)
تحریر: سید اسد عباس

2015ء سے 2022ء تک سات برس سعودیہ، قطر، عرب امارات کی مسلسل بمباری اور یمن میں حوثی مخالف قوتوں کی مدد کے بعد اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن میں امن قائم ہوا۔ ہمسایوں نے حوثیوں پر بمباری ترک کر دی، تاہم حوثی مخالف گروہوں کی مدد کا سلسلہ جاری رہا، جو جنوبی یمن کے کچھ علاقوں پر حاکم ہیں۔ اس وقت سعودیہ اور حوثیوں کے مابین دوبارہ جھڑپوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ حوثیوں نے باب المندب کی اہم گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ سعودیہ کے دو تجارتی جہازوں پر بحیرۂ احمر میں حملہ کیا، جس سے ایک جہاز کے اگلے حصّے میں آگ بھی بھڑک اُٹھی۔ اس وقت ایک جانب آبنائے ہرمز بند ہے، دوسری جانب باب المندب کی بندش کے سبب خلیج سے نکلنے والا تیل اور ایل پی جی گیس عالمی صارفین جس میں پاکستان بھی شامل ہے، تک نہیں پہنچ پا رہی۔

سوال یہ ہے کہ نیا کیا ہوا۔؟ جنگ بندی کی خلاف ورزی کس نے کی۔؟ اطلاعات کے مطابق 13 جولائی2026ء کو ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد جب حوثی وفد کا جہاز صناء ایئر پورٹ پر پہنچا تو اس پر ڈرون حملے کیے گئے، جس پر جہاز کا رخ موڑ کر اسے انصار اللہ کے زیرِ تسلط الحدید ایئرپورٹ پر اتارنا پڑا۔ عدن پر حاکم رشاد محمد العلیمی کی حکومت نے اس جہاز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مخبری تھی کہ اس جہاز میں ایرانی فوجی اور اسلحہ لایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب العلیمی کی حکومت کا سب سے بڑا سیاسی، مالی اور فوجی حامی ہے، جو کہ یمنی حکومت کو بجٹ میں سپورٹ، مرکزی بینک کی امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی فنڈز فراہم کرتا ہے۔ عرب اتحاد کے ایک اہم رکن کے طور پر اماراتی حکومت بھی ان کی سلامتی اور معاشی بحالی میں تعاون کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتیں رشاد العلیمی کی صدارتی کونسل ہی کو یمن کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرتی ہیں۔

حوثیوں کی تنظیم انصار اللہ نے سعودیوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سعودی ایئرپورٹ پر میزائل و ڈرون داغ دیئے اور دھمکی دی کہ اگر ان کے خلاف جنگ میں سعودی عرب شامل ہوا تو وہ سعودی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ اب 20 جولائی سے انصار اللہ کی جانب سے سعودیہ کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب نے جوابی کارروائیاں کیں ہیں، جن کے جواب میں انصار اللہ اپنی کارروائیاں بڑھاتے جا رہے ہیں۔ یہ حوثی وہی ہیں، جنھوں نے غزہ پر حملوں کے دوران اسرائیل پر میزائل داغے اور اسرائیلی فضائی کارروائی کے نتیجے میں ان کی اعلی عسکری و سیاسی قیادت شہید ہوگئی۔ حوثیوں کو مغربی میڈیا اور اس کے کاسہ لیس نیوز چینلز و اخبارات میں اکثر ایران کی پراکسی اور باغی کے لفظ سے موسوم کیا جاتا ہے۔

حالانکہ جنگ رمضان (امریکی و اسرائیل کی ایران پر جارحیت) کے دوران حوثیوں نے نہ امریکی اڈوں پر حملہ کیا، نہ اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، نہ ہی باب المندب کو بند کیا۔ پراکسی ہوتے تو جیسے ہی ایران کی قیادت شہید کی گئی تھی، حوثی بھی بحرین، قطر، سعودیہ، امارات میں امریکی اڈوں پر حملے کرتے جیسا کہ انھوں نے غزہ جنگ کے دوران کیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران اور حوثیوں کے مابین فکری و نظریاتی ہم آہنگی موجود ہے، دونوں امریکہ اور اسرائیل کو امت کا دشمن سمجھتے ہیں، اسی طرح خطہ کی بادشاہتوں کو ان دشمنوں کا حامی تصور کرتے ہیں۔ یہ فکری و نظری ہم آہنگی یمن کو کسی طور پر بھی ایران کی پراکسی نہیں بناتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایران حوثیوں کی عسکری، مالی مدد بھی کرتا ہو، تاہم ایسا نہیں ہے کہ ایران بٹن دبائے اور حوثی میدان میں نکل آئیں۔

ان کی قیادت اپنے فیصلے خود لیتی ہے، جیسا کہ رمضان جنگ یعنی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے دوران انھوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ حوثیوں کے سعودیہ پر حملے پاکستان کے لیے بھی ایک سکیورٹی چیلنج کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ پاکستان اور سعودیہ کے مابین 2025ء میں دفاعی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایک ریاست پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی سیاسی مبصرین حالیہ سعودیہ حوثی کشیدگی کو اسرائیل بھارت سازش قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو مشرق وسطی جنگ میں دھکیلنا ہے۔ پاکستان نے حوثیوں کو حملوں کو روکنے کا الٹی میٹم دیا ہے، اسی طرح ایران کے ساتھ بھی سفارتی روابط جاری ہیں، تاکہ حوثیوں کو حملوں سے روکا جائے۔

معروف کالم نویس عظمی گل کہتی ہیں، رشاد محمد العلیمی کو مخبری کس نے کی۔؟ یہ مخبری امریکہ، اسرائیل کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔ عظمی گل کا کہنا ہے کہ پاکستان حوثیوں سے اگر جنگ میں الجھا تو نتیجہ خواہ کچھ نکلے، نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا، اپنوں کا خون بہے گا اور اپنے ہی وسائل اور اسلحہ ضائع ہوگا۔ پاکستان میں پہلے ہی تین صوبوں میں شرپسندوں اور علیحدگی پسندوں کی شورش انتہاء پر ہے، جبکہ باقی ماندہ ملک میں ہندوستان کی طرف سے آبی جارحیت جاری ہے۔ اُوپر سے مغرب نے بھی تیزی سے ہمارے گرد شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ ابتداء ہمارا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے سے کی جا رہی ہے۔

27 میں سے بیشتر شرائط منوا کر بھی وہ راضی نہیں، جن میں پھانسی کی سزا معطل کرنے، شراب بیچنے پر پابندی ہٹانے، تو ہینِ رسالت کے قانوں پر عملدرآمد نہ کرنے جیسے اسلام کے سراسر منافی اقدامات کرنے پر بھی وہ مطمٔن نہیں۔ پاکستان اگر امریکہ اور ایران میں ثالثی کروا سکتا ہے تو اسے سعودیہ اور حوثیوں کے مابین بھی جنگ بندی کی کوشش کرنی چاہیئے، تاکہ کم از کم باب المندب سے تیل اور گیس کی سپلائی کا سلسلہ جاری رہے۔ اگر باب المندب کی بندش جاری رہتی ہے تو یہ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا، ملک پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے دوچار ہے، ایسے میں پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ رہی سہی کسر نکال دے گا۔
خبر کا کوڈ : 1295503
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش