کلام: سید اظفر کاظمی
حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی حق، صداقت، عزتِ نفس اور دینِ اسلام کی بقا کی وہ لازوال داستان ہے جو ہر دور میں اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہی ہے۔ آپؑ کی بارگاہِ اقدس میں پیش کیا جانے والا ہر نذرانۂ عقیدت دراصل محبتِ اہلِ بیتؑ، وفاداری اور جذبۂ ایثار کا اظہار ہوتا ہے۔ زیرِ نظر کلام معروف شاعر سید اظفر کاظمی کا نذرانۂ عقیدت ہے، جس میں حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ سے والہانہ محبت، کربلا کے ابدی پیغام اور اہلِ بیتؑ سے قلبی وابستگی کو نہایت مؤثر اور دلنشیں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ دعا ہے کہ یہ کلام قارئین کے دلوں میں محبتِ حسینؑ کو مزید راسخ کرے اور انہیں فکرِ حسینی پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دنیا کے سب رہنماؤں سے جدا میرا حسینؑ
مصطفیؐ و مرتضیؑ و مجتبیؑ میرا حسینؑ
شان کیا اس کی بتاؤں ہل اتیٰ کا باب ہے
فادخلی اور وادخلی سے ہے سجا میرا حسینؑ
ہے علیؑ کا جلوہ اس میں مصطفیؐ کی ہے جھلک
فاطمہؑ کی جاں ہے شبر کی عطا میرا حسینؑ
دیں کا قبلہ ظلم کے طوفاں میں کھو جائے اگر
رہنمائی کے لیے قبلہ نما میرا حسینؑ
آندھیاں تھیں چل رہیں ظلم و ستم کی چار سو
سامنے ان کے رہا ڈٹ کر کھڑا میرا حسینؑ
اپنے خوں کی چھینٹوں سے بیدار انساں کر گیا
انقلاب ایسا ہے برپا کر گیا میرا حسینؑ
کر گئے تکمیل دیں میدان خم میں مصطفیؐ
بن گیا دیں کے لیے وجہ بقا میرا حسینؑ
کربلا میں صاف کرکے بیٹے کے مقتل کو پھر
فاطمہؑ نے ریت پر خوں سے لکھا میرا حسینؑ
اب کوئی بیمار کیوں رہ پائے گا اظفر یہاں
کربلا میں دے گیا خاک شفا میرا حسینؑ