0
Thursday 6 Aug 2026 14:32

کیا ایران تباہ ہوگا؟

کیا ایران تباہ ہوگا؟
تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

”اوریا مقبول جان“ ایک معرف تجزیہ نگار ہیں۔ ان کی اکثر تحریریں اس وقت سے ہمارے زیر مطالعہ ہیں جب وہ ”ضرب مومن“ اخبار کے لیے لکھتے تھے۔ اس وقت ان کی تحریریں ایک خاص نقطہء نظر کی حامل تھیں۔ لیکن اس کے بعد ان کے افکار میں آہستہ آہستہ ایک جوہری تبدیلی رونما ہوئی اور آج ان کا ”ویلاگ“ حق و حقیقت کا ترجمان نظر آتا ہے۔ بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ معرکہ آرائی کے حوالے سے ان کی زیادہ تر گفتگو ”حق نما“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے لیے ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

آمدم برسر مطلب یہ کہ وہ اپنی گفتگو میں اس دورِ آخر کے حوالے سے رسول خدا (ص) کی ایک حدیث کا اکثر حوالہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جس میں بقول ان کے رسول خدا نے فرمایا ہے ”زمانہء آخر میں عرب تباہ ہوں گے لیکن ان کی تباہی سے قبل ایران تباہ ہوگا“۔ ہم ان کے اس نقطہء نظر سے کچھ اختلاف کی جسارت کرتے ہیں۔ وجہ یہ نہیں کہ ہم یہ چاہتے نہیں کہ ایران تباہ ہو، بلکہ اس کا سبب اس طرح کی روایت کا نا معتبر ہونا ہے۔ اگر شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کی بیان کردہ آخری زمانے کی روایات کو دیکھا جائے تو رسول خداؐ کا ایسا کوئی متفق علیہ اور صریح بیان موجود نہیں کہ "عربوں سے پہلے ایران تباہ ہوگا"۔ البتہ مختلف روایات میں بعض علاقوں میں فتنوں، جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ذکر ضرور ملتا ہے، مگر ان کی سند، تشریح اور تطبیق میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔

شیعہ روایات میں خاص طور پر یہ علامات ملتی ہیں کہ: سفیانی کا خروج شام سے ہوگا، عراق میں شدید فتنے اور خونریزی ہوگی، حجاز میں حکمران کے انتقال کے بعد اختلافات رونما ہوں گے، یمن سے یمانی کا خروج ہدایت کی علامت ہوگا اور خراسان سے سیاہ پرچم بلند ہوں گے وغیرہ۔ لیکن ان روایات کی سند اور ان کے مصداق پر اختلاف بھی ہے۔ بعض لوگ موجودہ ایران کو "خراسان" یا ان روایات کا قطعی مصداق قرار دیتے ہیں مگر کچھ شیعہ علماء اس بارے میں احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور موجودہ سیاسی واقعات کو سو فیصد ان روایات پر منطبق نہیں کرتے۔

اسی طرح اہلِ سنت کی روایات میں بھی شام، عراق، حجاز، دجال، نزولِ عیسیٰؑ اور امام مہدیؑ کے ظہور کا ذکر زیادہ نمایاں ہے لیکن ایران کے عرب ممالک سے پہلے تباہ ہونے کی کوئی واضح اور صحیح حدیث موجود نہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ "احادیث کے مطابق عربوں سے پہلے ایران ضرور تباہ ہوگا" تو اس دعوے کے لیے کوئی متفق علیہ، صحیح اور صریح حدیث پیش کرنا مشکل ہے۔ اوریا مقبول جان اس موضوع پر جو گفتگو کرتے ہیں وہ دراصل عموماً چند احادیث، ان کی اپنی تشریح اور موجودہ جغرافیائی و سیاسی حالات کو ملا کر ایک نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ یہ ان کی تعبیر ہے، نہ کہ ایسا اجماعی دینی موقف جس پر تمام علماء متفق ہوں۔ مثال کے طور پر وہ اکثر اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں: "عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ گیا ہے" (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ اس حدیث میں عرب کے لیے بڑے فتنے اور تباہی کی خبر دی گئی ہے، لیکن اس میں ایران کا ذکر نہیں ہے۔ جہاں تک ایران کی بات ہے، بعض خطابات میں اوریا مقبول جان، خراسان، سفیانی، شام، عراق اور مشرق سے متعلق مختلف روایات کو ایک خاص ترتیب سے جوڑ کر یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ عربوں کی تباہی سے پہلے ایران تباہ ہوگا۔

اگرچہ یہ درست ہے کہ آخری بڑے معرکے سے پہلے ایران بھی شدید جنگوں اور تباہی سے گزرے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔ کیا ایران کی یہ تباہی کم نہیں تھی جس میں اس کے رہبر اعلیٰ اور کئی فوجی جرنیل جام شہادت نوش کرگئے اور ابھی تک وہ حالت جنگ میں ہے لیکن اس کے باوجود وہ نہ صرف ابھی تک زندہ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ توانا ہو چکا ہے۔ اگر یہاں آخری دور کے حوالے سے ایران کے کردار کے حوالے سے شیعہ سنی روایات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے لیے یہ کالم ناکافی ہے۔ اس پر ہم پھر کبھی قلم اٹھائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 1297480
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش