تحریر: پروفیسر سید مُلازم حسین بخاری
تاریخ کا دھارا اکثر غیر متوقع موڑ لیتا ہے اور عالمی سیاست کے نقشے پر طاقت کے توازن کا بدلنا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں امریکہ جیسا کوئی دوسرا ملک موجود نہیں ہے، جہاں شہریوں کے حقوق اور ان کی عزتِ نفس کو فوقیت دی جاتی ہے۔ امریکہ کا انفراسٹرکچر اس قدر مضبوط اور جدید ہے کہ کئی دہائیوں تک کوئی دوسرا ملک اس جیسی بلندی حاصل نہیں کر سکتا۔ وہاں کا نظامِ تعلیم، صحت کی سہولیات، سیکیورٹی کی فضا، مصنوعی ذہانت (AI) کا نفاذ اور سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت پوری دنیا سے برتر اور قابلِ تقلید ہے۔ تاہم، تمام تر تکنیکی اور داخلی برتری کے باوجود، امریکہ کا سیاسی و خارجہ نظام ایک سنگین بحران کا شکار دکھائی دیتا ہے، اور اس ناکامی کی بنیادی وجہ بین الاقوامی پالیسیوں میں اسرائیل کی بے جا مداخلت اور یکطرفہ جھکاؤ ہے۔ اس طرح ایران نے بھی سائنس و ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی ہے اسے بھی موقع دیا جائے کہ وہ زندہ رہ سکے۔
1) صیہونیت (Zionism) کا خطرہ اور مسلم دنیا کی مساوات کا سوال
عالمی امور کے مطالعے میں اس بات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یہودیوں (Jews) کے خلاف کسی کو کوئی اعتراض یا مخالفت نہیں ہے، وہ ایک قوم ہیں اور ان کی دو الہامی کتب ہیں جن پر ہم مسلمان اتفاق کرتے ہیں، مسلمان ان کے انبیاء پر بھی ایمان رکھتے ہیں تو انہیں بھی ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لانا چائیے اور قران مجید کو الہامی کتاب تسلیم کرنی چاہیئے لیکن مسلمانوں کے لیے صیہونیت (Zionism) کی توسیع پسندانہ فکر ایک عظیم جیو پولیٹیکل خطرہ بن چکی ہے۔ "گریٹر اسرائیل" کا نظریہ نہ صرف مسلم دنیا بلکہ دیگر مذاہب اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا ریڈ الرٹ ہے۔ اسی صیہونی دباؤ کے تحت امریکہ کو اسرائیل کے کہنے پر ایران یا دیگر مسلم ممالک کے ساتھ کسی جنگی دلدل میں نہیں کودنا چاہیئے۔ یہاں انصاف اور مساوات کا سوال پیدا ہوتا ہے:
* جوہری اور دفاعی توازن: اگر اسرائیل کے پاس جوہری توانائی اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی موجود ہو سکتی ہے، تو مسلم ممالک کے پاس یہ حق کیوں نہیں ہونا چاہیئے؟ اگر اسرائیل اپنی حفاظت کے لیے پیچیدہ میزائل سسٹم تیار کرتا ہے، تو ایران یا دوسرے مسلمانوں کو اپنی دفاعی خود مختاری سے محروم رکھنا سراسر دوہرا معیار ہے۔
* امریکہ کے لیے مساوات کا پیغام: اگر امریکہ "گریٹر امریکہ" کے طور پر اپنی برتری قائم رکھنا چاہتا ہے، تو اسے مسلم دنیا خاص طور پر ایران ، پاکستان، ترکی کے ساتھ برابری، احترام اور انصاف کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔
2) 2026ء کا عسکری معرکہ: غیر متوازن جنگ (Asymmetric Warfare) کا مظاہرہ
1776ء سے لے کر 2019ء تک امریکہ نے دنیا بھر میں 392 سے زائد عسکری مداخلتیں کیں۔ اگرچہ کوریا، ویتنام، افغانستان اور عراق میں امریکی افواج کو شدید معاشی و جانی نقصان اٹھانا پڑا، لیکن 2026ء میں ایران کے خلاف پیش آنے والا معرکہ تکنیکی اور اسٹریٹجک لحاظ سے بالکل مختلف ثابت ہوا۔ اس تنازع نے ثابت کیا کہ روایتی عسکری طاقت ہر قسم کی جنگ جیتنے کی ضامن نہیں ہوتی۔ ایران نے F-35 جیسے اربوں ڈالر کے فائٹر جیٹس کا مقابلہ کرنے کے بجائے سستے "شاہد ڈرونز" (لاگت 20 ہزار ڈالر) کے ذریعے مغرب کے لیے ایک مہلک معاشی اور دفاعی جال بچھا دیا:
* اخراجات کی ناہمواری: محض 20 ہزار ڈالر کے ڈرون کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو پیٹریاٹ (Patriot)، ایرو 3 (Arrow 3)، اور تھاڈ (THAAD) جیسے 10 لاکھ سے 40 لاکھ ڈالر مالیت کے انٹرسیپٹر میزائل داغنے پڑے۔
* دفاعی ذخائر کی منہائی: سست رفتار ڈرونز کے ذریعے دفاعی سسٹمز کے ذخائر ختم کیے گئے، جس کے بعد کروز اور جدید بیلسٹک میزائل داغے گئے۔
* تکنیکی خودمختاری: ایران نے امریکی GPS کے بائی پاس کے لیے روس کے GLONASS اور چین کے Beidou نیویگیشن سسٹمز کا مدغم استعمال کیا گیا۔
3) ایرانی قوم کی پائیداری بمقابلہ عرب ممالک پر انحصار
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایرانی قوم کو جتنا دبانے یا ان پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جائے گی، وہ قوم اتنی ہی زیادہ متحد، خود کفیل اور مضبوط ہو کر ابھرے گی۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی ایماء پر صرف عرب ممالک پر انحصار کرنا ایک مہنگی غلطی ثابت ہو رہا ہے۔ تاریخی سچائی یہ ہے کہ مصر، لیبیا، شام اور اردن ماضی میں روایتی جنگی میدانوں میں چٹکی کی مار ثابت ہوئے، اور موجودہ حالات میں سعودی عرب یا یو اے ای بھی ایرانیوں کی طرح ایک منظم اور نظریاتی قوم بن کر میدانِ جنگ میں نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اب وہ عرب نہیں ملتے جو مکہ و مدینہ سے اٹھے تھے اور اپنا دن رات گھوڑوں کی زینوں پر گزارتے تھے اب عرب تیل کی پیداوار ہیں جن کے ہاں آرام و آسائش بنیادی اہداف ہیں، اس لیے امریکہ کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایماندارانہ اور منصفانہ معاہدہ کرے، غیر قانونی پابندیاں ختم کرے اور انہیں ایک آزاد قوم کی حیثیت سے پھلنے پھولنے کا موقع دے۔
4) ایران کی چالیس 40 سالہ اسٹریٹجک تیاری اور جیو پولیٹیکل حقیقت
ایران کی یہ مزاحمتی صلاحیت راتوں رات پیدا نہیں ہوئی۔ 1980ء کی دہائی کی ایران-عراق جنگ کے بعد حسن تہرانی مقدم نے خود کفیل میزائل پروگرام کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں امیر علی حاجی زادہ نے ان تکنیکوں کو پہاڑوں کے سینکڑوں میٹر نیچے بتون سے بنے "میزائل شہروں" میں تبدیل کیا جو مغربی سیٹلائٹ کی نگاہوں سے مکمل اوجھل ہیں۔ مزید برآں، محمد علی جعفری کی تیار کردہ "موزیک ڈیفنس ڈاکٹرائن" کے تحت ایران کو 31 خود مختار صوبائی کمانڈز میں تقسیم کیا گیا، جس کی وجہ سے مرکزی قیادت پر حملے کے باوجود دفاعی نظام غیر متزلزل رہا۔ ایران کی جانب سے چار ماہ کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی مارکیٹ سے 1.15 ارب بیرل تیل نکال دیا اور 'تیسرے آئل شاک' کو جنم دیا۔ اس سے روزانہ 500 سے 700 ملین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، جس نے مغربی سیاسی عزم کو توڑ کر رکھ دیا۔
5) وقت کا تقاضہ نیا اقتصادی افق
اگر امریکہ آئندہ دہائیوں میں اپنی تکنیکی اور معاشی برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو اسے صیہونی لابی کے دباؤ سے آزاد ہو کر ایک نئی اور حقیقت پسندانہ مشرقی پالیسی تشکیل دینی ہوگی۔ امریکہ بہادر کو چاہیئے کہ وہ پاکستان، ترکی، ایران، یمن اور لبنان جیسے اہم اور تزویراتی صلاحیت رکھنے والے ممالک کو ساتھ ملا کر ایک نئے متوازن اقتصادی و تجارتی نظام کی تیاری کرے۔ اگر امریکہ نے ان ابھرتی ہوئی طاقتوں اور مسلم دنیا کے بلاک کو نظر انداز کر کے اپنی پرانی پالیسی جاری رکھی، تو چین معاشی اور اسٹریٹجک میدان میں بہت آگے نکل جائے گا اور امریکہ محض دیکھتا رہ جائے گا۔ پیٹرو ڈالر (Petrodollar) کا کمزور ہونا اور چین کے CIPS اور روس کے SPFS سسٹمز کی طرف دنیا کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے۔
آج 2026ء کے واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست کا یک قطبی دور اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ اربوں ڈالر کے بجٹ، سو سے زائد عسکری اڈوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود، روایتی عسکری قوتیں غیر متوازن مزاحمت، سستی اسٹریٹجک ٹیکنالوجی اور مضبوط جغرافیائی حکمتِ عملی کا مکمل توڑ پیدا نہیں کر سکیں۔ دنیا اب ایک کثیر قطبی (Multipolar) دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں طاقت کا مرکز کسی ایک ملک یا اتحاد کے پاس محفوظ نہیں رہا۔
ہماری دلی دعا اور خواہش ہے کہ ایران اسی طرح ایک ترقی یافتہ، پرامن اور تکنیکی طور پر بہتر ملک رہے اور اس کا زبردست داخلی نظام قائم رہے۔ اسی طرح پاکستان اور ایران بھی ہمیشہ ترقی کرتے رہیں۔ تاہم، عالمی امن اور امریکہ کے اپنے مستقبل کا تقاضا ہے کہ وہ صیہونیت کے توسیع پسندانہ عزائم کی قربانی چڑھنے کے بجائے تمام ممالک بالخصوص مسلم دنیا کی آزادی، خود مختاری (Sovereignty) اور برابری کا احترام کرے۔ بین الاقوامی تعلقات میں مداخلت کی بجائے انصاف اور شراکت داری کو فروغ دے کر ہی امریکہ اپنی عظمت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔