1
Thursday 6 Aug 2026 16:37

یمن مخالف اتحاد، سعودی نقاب اور صیہونی ایجنڈہ

یمن مخالف اتحاد، سعودی نقاب اور صیہونی ایجنڈہ
تحریر: علی احمدی
 
یمن کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی کے اعلان کو تین ہفتے ہونے والے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت انجام پایا جب انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" پالیسی کا اعلان کیا۔ یہ پالیسی سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف گذشتہ 8 برس سے جاری ظالمانہ محاصرہ جاری رہنے کی صورت میں جاری رہے گی اور حتی اس میں مزید شدت آنے کا امکان بھی پایا جاتا ہے۔ زمینی حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں سعودی بحری جہازوں کی آمدورفت روکنے میں پوری طرح کامیاب رہا ہے۔ اس محاصرے نے سعودی عرب کی معیشت پر شدید منفی اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں اور خام تیل کی برآمدات نیز دیگر محصولات کی درآمدات میں بہت زیادہ کم واقع ہوئی ہے۔
 
دوسری طرف بحیرہ احمر کی بجائے دوسرا سمندری راستہ بہت زیادہ طولانی ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ کی کمپنیوں کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں اور ہر بحری جہاز کا سفر بھی 30 سے 60 دن لمبا ہو گیا ہے۔ صنعاء کی جانب سے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" پر مبنی مساوات سعودی عرب کی جانب سے یمن کے ظالمانہ محاصرے کا جائز جواب ہے جسے دو طریقوں سے جامہ عمل پہنایا جا رہا ہے: ایک یہ کہ سعودی عرب یا اس سے متعلقہ بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر کوئی بحری جہاز زبردستی ممنوعہ علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اسے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دوسرا تیل بردار اور تجارتی بحری جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان بحری جہازوں کو امید نیک ہارن کی جانب بھیج دیا جاتا ہے۔ یمن کی مسلح افواج کے مطابق اب تک 16 سے زیادہ جہازوں کو اس راستے کی طرف موڑا گیا ہے۔
 
سعودی عرب نے یمن کے اس اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی سمندری اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درحقیقت "سعودی نقاب میں ایک صیہونی ایجنڈہ" ہے جس کا مقصد خطے میں امریکی صیہونی عزائم اور اہداف کو جامہ عمل پہنانا ہے۔ آل سعود رژیم اپنی تشکیل کی ابتدا سے ہی اعلامی استکباری طاقتوں کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتی آئی ہے اور گذشتہ چند عشروں سے وہ صیہونزم کی آلہ کار بن چکی ہے۔ سعودی رژیم نہ تو ہمسائیگی کا حق ادا کرتی ہے اور نہ ہی ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور حاکمیت کا احترام کرتی ہے۔ اس نے گذشتہ 8 برس سے صرف اس خاطر یمن کا سمندری، زمینی اور فضائی محاصرہ کر رکھا ہے کیونکہ یمن کے حوثی مجاہدین نے مظلوم فلسطینیوں کی خاطر اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔
 
سعودی عرب نے امریکہ، برطانیہ اور غاصب صیہونی رژیم کی شہہ پر یمن کے خلاف نام نہاد سمندری اتحاد تشکیل دیا ہے اور اس اقدام کا مقصد "بین الاقوامی جہازرانی کی حفاظت" بیان کیا ہے جبکہ یمن نے صرف سعودی عرب کے بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کی ہے اور دیگر ممالک کے بحری جہاز آزادی سے آمدورفت میں مصروف ہیں۔ انصاراللہ یمن نے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر کو صرف سعودی عرب کے بحری جہازوں کے لیے بند کیا ہے۔ عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا ہے کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی جہازرانی کی حفاظت کا نام لے کر سمندری اتحاد تشکیل دیا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک صیہونی منصوبہ ہے جو 2023ء سے زیر غور تھا اور 2026ء میں اس پر عملدرآمد شروع ہوا ہے۔
 
ان رپورٹس کے مطابق آل سعود رژیم اس وقت اس صیہونی منصوبے کو جامہ عمل پہنانے کے لیے ٹھیکیدار کا کردار ادا کر رہی ہے اور بین الاقوامی صیہونزم کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ اس دعوے کے حق میں کچھ ٹھوس شواہد بھی پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک صیہونی چینل "کان" کی 2023ء میں یہ رپورٹ ہے: "تل ابیب نے سرکاری طور پر برطانیہ اور جاپان سمیت کچھ ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی صورت میں مشترکہ بحریہ فورس تشکیل دیں۔" اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکمران امریکہ اور برطانیہ کی سربراہی میں تشکیل پانے والے نیوی اتحاد سے مایوس ہو چکے تھے اور انہیں یمن کے مقابلے میں شکست خوردہ اور ناکام تصور کر رہے تھے۔
 
اس نام نہاد سمندری اتحاد کی شکست کے آثار ابھی سے واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں اور یوں دکھائی دیتا ہے کہ اس کا انجام بھی ماضی میں تشکیل پانے والے یمن مخالف اتحاد جیسا ہی ہو گا۔ دوسری طرف صنعاء نے اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سربراہی میں اس صیہونی ایجنڈے میں شامل ہونے سے باز رہیں۔ یمن نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف اس کے اقدامات کا واحد مقصد اس کی جانب سے اپنے خلاف جاری ظالمانہ محاصرہ ختم کرنا اور اپنے جائز اور انسانی حقوق کا حصول ہے۔ صنعاء نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کا نتیجہ عدم استحکام اور سیکورٹی بحران کی صورت میں ظاہر ہو گا اور یوں تمام ممالک کے بحری جہازوں کی آمدورفت خطرے میں پڑ جائے گی۔ 
خبر کا کوڈ : 1297513
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش