0
Tuesday 7 Jul 2026 06:25

وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

  • وادی کشمیر،

    وادی کشمیر، "شہدائے کربلا کانفرنس" میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کی شرکت

اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بین المذاہب مکالمے اور باہمی اخوت کو فروغ دینے کی ایک منفرد کاوش کے تحت منہاج القرآن انٹرنیشنل کشمیر کے اہتمام سے آج "شہدائے کربلا کانفرنس: ذکرِ حسین (ع) اور فکرِ حسین (ع)" کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتبِ فکر، مذاہب اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کرکے واقعۂ کربلا کے آفاقی پیغام کو اجاگر کیا۔ کانفرنس میں شیعہ، سنی، کشمیری پنڈت اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، دانشوروں، شعراء اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اس اجتماع کو جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بین المذاہب احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیر شفیع صدیقی، آغا سید محمد ہادی موسوی، قاضی عمیر، ڈاکٹر ارشد القادری، مولانا عادل حسین شاہ، مولانا ارشد القادری، سماجی کارکن ابھیجیت سنگھ اور سماجی کارکن بسنت کمار نے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی کسی ایک مذہب، مسلک یا قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے حق، انصاف، آزادی، شجاعت، صبر اور ظلم کے خلاف استقامت کی لازوال علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا کا پیغام ہر دور میں انسانوں کو باطل کے سامنے ڈٹ جانے، انسانی اقدار کے تحفظ اور مظلوموں کی حمایت کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیتؑ اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ جو بے مثال قربانی پیش کی، وہ رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعلِ راہ رہے گی۔ آج کے پُرآشوب دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ کربلا کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا جائے تاکہ معاشرے میں انصاف، محبت، اخوت اور امن کو فروغ حاصل ہو۔

مقررین نے مختلف مذاہب اور برادریوں کے افراد کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اجتماعات معاشرے میں باہمی اعتماد، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کی صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب اور بھائی چارے کی روایت کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اس نوعیت کی تقریبات کا تسلسل ضروری ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے حضرت امام حسینؑ کی تعلیمات کی روشنی میں عدل، انسانیت، اخوت، مذہبی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کربلا کا پیغام پوری انسانیت کیلئے امید، حوصلے اور حق و صداقت کی دائمی آواز ہے۔
خبر کا کوڈ : 1290582
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش