1
Saturday 30 May 2026 08:05

ایران امریکہ جنگ کے حوالے سے علامہ سید عابد الحسینی کے ساتھ خصوصی گفتگو

ایران امریکہ جنگ کے حوالے سے علامہ سید عابد الحسینی کے ساتھ خصوصی گفتگو
علامہ سید عابد الحسینی کا شمار ملک کے بزرگ، جید اور برجستہ علماء میں کیا جاتا ہے۔ سیاسی طور پر نہ صرف علاقائی بلکہ ملکی سطح پر فعال کردار کے حامل رہے ہیں۔ 1984ء سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ جبکہ 1988ء کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان میں صوبائی صدر اور مرکزی سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک جعفریہ پاکستان کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 20 مارچ 1997ء میں تحریک جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، اسی دوران شورائ وحدت اسلامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل چنے گئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کرم نیز ملکی سطح پر حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ایران امریکہ جنگ کے دوران دو ارب مسلمانوں خصوصاً مسلم ممالک کے سربراہان کے منافقانہ کردار کے حوالے سے انکے ساتھ خصوصی گفتگو کی ہے، جسے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آغا صاحب! ایران امریکہ جنگ میں مسلم ممالک خصوصاً عربوں کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
علامہ سید عابد الحسینی:
مسلم ممالک کا کردار تو جنگ سے پہلے بھی واضح ہے۔ فلسطین، لبنان، لیبیا، یمن و عراق سمیت کسی بھی مسلم ملک پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے حوالے سے نہ عرب لیگ کی کانفرنس بلائی، نہ اسلامی سربراہ کانفرنس بلائی۔ اگر کبھی بلائی بھی تو مذمت کے سوا کچھ بھی نہیں کیا، جبکہ ایران جنگ میں تو انہوں نے منافقت کی حد ہی توڑ دی۔ انہوں نے ایران کی کمک کی بجائے اسرائیل کی کمک کی۔ جب حوثیوں نے باب المندب پر اسرائیل کی ناکہ بندی کی تو عرب ممالک نے غذائی سامان جبکہ منافق ترکی نے ہلکے اور سپیشل کمانڈو اسلحہ کی ترسیل اسرائیل کو جاری رکھی۔

اسلام ٹائمز: جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل و امریکہ کی بجائے عرب ممالک خصوصاً امارات پر زیادہ حملے کئے۔ کیا یہ انکا اسرائیل کیلئے نرم گوشہ نہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
ایران نے عرب ممالک میں صرف امریکی اڈوں اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران کی جگہ اگر کوئی دوسرا ہوتا، تو وہ صرف امریکی اہداف پر اکتفا نہ کرتا بلکہ اس ملک کی ہر چیز، ہر سنٹر اور پورے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتا۔ دیکھیں، ہمارے ملک نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے دوران صرف انہی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔؟ نہیں بلکہ ہم نے طالبان حکومت سمیت عوامی مقامات کو بھی نہ بخشا۔ کیونکہ پاکستان نے افغان طالبان کو دوٹوک پیغام جاری کیا تھا کہ ہمارے خلاف جو بھی سرزمین استعمال ہوئی ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔ چنانچہ دوہرا معیار نہ اپنائیں۔ اگر افغانستان میں موجود ایک اسلامی حکومت کے خلاف پاکستانی کارروئی حق بجانب ہے تو ایران کیلئے صرف اپنے ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے نمبر ایک دشمن امریکہ و اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کا حق کیوں حاصل نہیں۔؟

اسلام ٹائمز: بیشک، عرب ممالک میں امریکی اڈے ہیں، تاہم اسے فوری نکالنے کی عربوں میں طاقت تو نہیں، جسکا علم ایران کو بھی ہے۔ ایران پھر بھی انہیں نشانہ کیوں بناتا رہا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
بیشک ان کے پاس طاقت نہیں۔ یہی تو ان کی کمزوری ہے کہ ایک ایسی طاقت کو اپنے ملک کیوں بلایا اور اسے ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف کیوں استعمال کیا اور یہ کہ جب ان کی وجہ سے ان کے اپنے ملک اور اپنے مفادات کے لئے خطرہ ہے اور وہ دشمن سے اپنا دفاع نہیں کرسکتا۔ عربوں کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ تو انہیں یہی سوچ پہلے کرنا چاہیئے تھی۔ تاہم اب بھی وقت ہے کہ وہ ایران کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کریں اور امریکہ و اسرائیل پر اپنا انحصار بالکل ختم کر دیں۔ ورنہ وہ پٹتے رہیں گے اور اپنی روشن کردہ آگ میں خود جلتے رہیں گے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کے مقابلے کیلئے ایران کے پاس مطلوبہ قوت بھی نہیں۔ پھر بھی ایران عزت کیساتھ معاہدہ کیوں نہیں کر رہا۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
یہ سوال الٹا کریں کہ جب امریکہ کے پاس ایران کو فتح کرنے یا اسے منانے کی مطلوبہ قوت بھی نہیں تو وہ پاکستان کے توسط سے باعزت طریقے سے معاہدہ کیوں نہیں کرتا۔ ایران کے پاس اگر قوت نہ ہوتی تو امریکہ اپنے مذموم مقاصد میں سے کسی ایک مقصد کو حاصل کرلیتا۔ رژیم چینج کرواتا، یورینیم چھین لیتا، آبنائے ہرمز کھلوا پاتا، اپنے اڈوں اور اپنے اتحادیوں کو بچا لیتا اور اگر امریکہ کے پاس طاقت موجود ہوتی تو وہ پاکستان کے ترلے نہ کرتا۔ وہ ایک ہی بات کرنے پر مصر رہتا کہ ہمیں کوئی بات نہیں سننی۔ بس جنگ اس وقت تک جاری رکھنی ہے، جب تک مقصد کو پہنچ نہیں جاتے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ ایران تصادم میں اپنے ملک کے حکمرانوں سے کیا توقع رکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
اپنے عزیز قابل احترام ملک کے نااہل اور ناقابل احترام حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں ہے۔ البتہ ہماری تجویز یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ برابری کے اصول پر بات چیت کرے۔ ان سے ڈکٹیشن لینے کی بجائے باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں اور ان مذاکرات کے دوران اپنے ملک کے لئے بھی کچھ شرائط رکھوائیں۔ مثلاً آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے جاری پریشر کو کم کروائیں اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایران کے ساتھ کھلی تجارت کی اجازت طلب کریں۔

اسلام ٹائمز: 13 جون کو لاہور میں ہونیوالے اجتماع کے حوالے سے کیا پیغام دینا پسند کرینگے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی:
یہ اجتماع بہت خوش آئند ہے۔ مومنین کے اتحاد اور طاقت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تمام مومنین کو اس میں شمولیت کرنی چاہیئے، جبکہ علماء اور ذمہ داران کو چاہیئے کہ اپنے ذاتی اور مخصوص تنظیمی مفاد سے ہٹ کر امت کے مفادات کو ترجیح دیں اور اپنے معمولی معمولی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر بالاتفاق اس پروگرام کو کامیاب بنائیں۔
خبر کا کوڈ : 1282713
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش