اسلام ٹائمز۔ امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ظالم طبقہ کسی بھی واقعے کے بعد یکجا ہو جاتا ہے اور مظلوم تنہارہ جاتا ہے۔ منعم ظفر نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ کارساز حادثے میں پولیس نے7 دن کا ریمانڈ مانگا مگر ایک دن کا ریمانڈ دیا گیا، موصوفہ 2 کمپنیز کی سی ای او ہیں، کہنے والے کہتے ہیں خاتون نے آئس کا نشہ کیا ہوا تھا لیکن حقیقت تو تحقیقاتی رپورٹ بتائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے کئی واقعات ہیں جس میں نظام ظالم کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور مظلوم تنہا ہوگیا، شاہ رخ جتوئی کا واقعہ ہوا، ناظم جوکھیو کا واقعہ بھی زیادہ پرانا نہیں، کتنے واقعات ایسے ہیں کہ رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ آئس اور ہیروئن کا نشہ شہر کے نوجوانوں میں پھیلایا جا رہا ہے، شرجیل انعام کہتے ہیں کہ ہیروئن کے خلاف کارروائی کریں گے، ان کے تو اپنے پاس سے شہد کی بوتل نکلی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہی وہ حکمراں ہیں جن کے سروں پر طاقت، اقتدار اور دولت کا نشہ سوار ہے، یہ ان تمام واقعات کو دبانا چاہتے ہیں۔ منعم ظفر نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے، ہم متاثرہ خاندان کی قانونی معاونت بھی کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ریاست کا ہر ادارہ ظالم کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ ڈرگ روڈ برج، سہراب گوٹھ پُل پر گڑھا ہوگیا ہے، جہانگیر روڈ نہیں بن سکا جو بنایا وہ تھوڑی سی بارش میں بہہ گیا اور انڈر پاس موت کے کنویں کا منظر پیش کر رہے ہیں، ریڈ لائن کے نام پر یونیورسٹی روڈ کو کھود دیا گیا ہے، یہ ریڈ لائن انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان تمام پروجیکٹس کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں کہ کب بنیں گے بس پورا شہر کھود دیا ہے۔ منعم ظفر نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کو متنبہ کرتے ہیں کہ شہر اس طرح نہیں چلے گا یہ کیسا مذاق ہے کہ کوئی پروجیکٹ مکمل نہ ہو اور جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوں۔