0
Wednesday 21 Aug 2024 22:28

اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کروانے میں صیہونی حکام کی ناکامی پر ایک اسرائیلی ماں کی یحیی السنوار کو انوکھی پیشکش

اسرائیلی قیدیوں کو آزاد کروانے میں صیہونی حکام کی ناکامی پر ایک اسرائیلی ماں کی یحیی السنوار کو انوکھی پیشکش
اسلام ٹائمز۔ حماس کے پاس موجود اسرائیلی قیدیوں میں سے ایک کی ماں نے اسرائیلی قیدیوں کی آزادی کے لئے صیہونی حکام سے ناامیدی پر سربراہ سیاسی بیورو حماس یحیی السنوار کو ایک انوکھی پیشکش دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی میڈیا کے ساتھ گفتگو میں صیہونی قیدی کی ماں کا یحیی السنوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں السنوار کے ساتھ بات کر رہی ہوں، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی خاطر میرے پاس آپ کے لئے ایک نئی پیشکش ہے کہ جو کھیل کے تمام اصولوں کو بدل کر رکھ دے گی، اس تمام مدت میں آپ نے (اسرائیلی حکام کی جانب سے) بار بار ایک جیسی ہی باتیں سنی ہیں لیکن میں آپ کو ایک ایسی نئی بات کہنے والی ہوں کہ جس کو تمام میڈیا وسیع کوریج دے گا، میں جانتی ہوں کہ آپ عبری زبان میں بات چیت کرتے ہیں پس آپ کو مترجم کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔۔

-

اسرائیلی قیدی کی ماں نے اسرائیلی قیدیوں کی آزادی کے لئے معاہدے تک پہنچنے سے متعلق غاصب صیہونی حکام کی نااہلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سربراہ سیاسی بیورو حماس کو پیشکش دی کہ وہ 5 نئے و اہم اسرائیلی قیدیوں کے بدلے باقی ماندہ تمام 105 اسرائیلی قیدی آزاد کر دیں!

اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے ویڈیو بیان میں اسرائیلی قیدی کی ماں نے کہا کہ وہ 5 قیدی یہ ہیں، پہلا؛ اسرائیلی آرمی چیف ہرتزی ہالوی کہ جو یہ تک نہیں جانتا کہ کیسے جیتنا ہے، کا بیٹا، دوسرا؛ اسرائیلی وزیر جنگ یوایو گیلنٹ کہ جو کہتا ہے کہ ہم فتحیاب ہو ہی نہیں سکتے، کا بیٹا، تیسرا؛ اسرائیلی فوجی اٹارنی جنرل مس یفعات تومر کہ جو یہ تک نہیں جانتی کہ وہ کس کا ساتھ دے رہی ہے، کا بیٹا، چوتھا؛ اسرائیلی اندرونی سلامتی کی جاسوس ایجنسی شاباک کے سربراہ کہ جو اس (7 اکتوبر) کے روز صبح 4 بجے جانتا تھا کہ حملہ ہونے والا ہے لیکن اس نے نووا فیسٹیول کو پروگرام کے مطابق منعقد ہونے دیا درحالیکہ وہ سینکڑوں (غاصب) صیہونیوں کے مارے جانے و قیدی بنا لئے جانے کو روک سکتا تھا، کا بیٹا اور پانچواں؛ (اسرائیلی قیدیوں کے لئے مذاکرات کے انچارج) نیتسان ایلون کہ جو جانتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے اسرائیلی قیدیوں کو کیسے واپس لایا جا سکتا ہے، کا بیٹا!
خبر کا کوڈ : 1155383
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

مربوطہ فائل
ہماری پیشکش