0
Sunday 25 Aug 2024 00:28

وزیراعلیٰ کے حلقے میں مسلح افراد سرکاری ملازمین کو ناکے لگاکر اغوا کرتے ہیں، گورنر کے پی

وزیراعلیٰ کے حلقے میں مسلح افراد سرکاری ملازمین کو ناکے لگاکر اغوا کرتے ہیں، گورنر کے پی
اسلام ٹائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں قانون کی عمل داری کے لیے وفاقی حکومت  کے تعاون  کی ضرورت ہو گی اور وفاق ہر قسم کی سپورٹ دینے کے لیے تیار ہوگا۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی سیکیورٹی اور سیاسی صورت حال سمیت مختلف معاملات پر بات کی۔ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق بات کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے اپنے حلقے میں سرکاری ملازم سفر نہیں کر سکتا، مین ہائی ویز پر ٹولے آتے ہیں اور چیک کرتے ہیں کہ ان میں کون سرکاری ملازم ہے اور اغوا کرلیتے ہیں، کے پی میں گورنمنٹ ملازمین کو سرکاری گاڑیوں پر سفر نہ کرنے کا کہا گیا اس لیے انہیں پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنا پڑتا ہے ، ٹولے سڑکوں پر نکلتے ہیں ناکے لگاتے ہیں۔

صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چینی سیاحوں کو روک دیتے ہیں کہ سیکیورٹی کا ایشو ہے، اس کا مطلب ہے کہ کے پی میں نو گو ایریاز ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ صوبے میں نو گو ایریا نہیں ہے تو چین کے شہریوں کو کیوں روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبے میں حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے اور یہ تو سمجھ رہے ہیں کہ  صوبے میں سب سکھ چین ہے، ان کو سمجھ ہی نہیں ہے کہ صوبے میں کیا ہو رہا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کیا کسی نے سنا کہ سیکیورٹی کی صورتحال پر کابینہ کی میٹنگ بلائی گئی ہو؟ جن لوگوں کو انہوں نے لا کر بسایا انہوں نے اسلحہ اٹھا لیا تو یہ کیا کریں گے، اگر ہتھیار اٹھا لیے تو یہ پھر کس کو پکڑیں گے؟۔

فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ صوبے میں سرکاری افسران اور پولیس پر حملے ہو رہے ہیں ۔ کسٹم، انٹیلی جنس، فوج کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں، کے پی  کے میں ججز محفوظ نہیں ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال  پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، ان  کے بس میں نہیں ہے کہ امن و امان  قائم کر سکیں، ان کو وفاقی حکومت  کے تعاون  کی ضرورت ہو گی کیونکہ یہ امن و امان بحال نہیں کر سکتے البتہ اس کے قیام کیلیے مرکز سے سپورٹ مانگ سکتے ہیں۔ ان سے معاملات کنٹرول نہیں ہوں گے، وفاق صوبے کو ہر  قسم کی سپورٹ دینے کے لیے تیار ہو گا، ہم بالکل سپورٹ  کریں گے ، میں خود صوبے کی عوام کا وکیل بنوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی آئین و قانون کو نہیں مانتا اس سے بات چیت نہیں ہو سکتی، جو پاکستان کے آئین و قانون کو مانے گا ان کے ساتھ بات چیت ہو سکتی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 9 مئی کا اگر ایشو ہے تو پھر بانی پی ٹی آئی کا معاملہ ضرور فوجی عدالتوں میں جائے گا، ہم نے دیکھا کہ ریاست میں کیا کیا چیزیں ہوئی ہیں،9 مئی کے واقعات کی تہہ میں جانا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سزائیں نہ دیں تو خدا نخواستہ کل اس سے بڑے واقعات ہوں گے۔ پی ٹی آئی میں اختلافات سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں نے اپنے محسنوں سے کیا کیا ہے؟ پی ٹی آئی میں 5 گروپ بنے ہوئے ہیں اور یہ دراصل فرنچائزز ہیں، سمجھ نہیں آتی کون کس کو نکال رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسے ملتوی ہونے سے متعلق پروگرام میں بات کرتے ہوئے گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی  نے ایک دن پہلے پیغام دیا تھا کہ ہم جلسہ نہیں کر سکتے، پی ٹی آئی نے جلسے کا بس شور مچایا ہوا تھا، پی ٹی آئی والوں کی جانب سے پہلے سے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ ہم جلسہ نہیں کریں گے جبکہ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ  جلسہ نہ ہوا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔
خبر کا کوڈ : 1156004
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش