اسلام ٹائمز۔ غزہ کے وسطی علاقے دیرالبلح میں 18 پانی کے کنووں میں سے صرف 3 باقی ہیں، اور یہ 700,000 افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جو کہ اس وقت بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ پیاس کی شدت بھی جھیل رہے ہیں۔ فارس نیوز کے مطابق دیرالبلح کی بلدیہ نے ایک بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں کسی ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔ 15 پانی کے کنووے ناکارہ ہو چکے ہیں، جو شہر کی 85 فیصد آبادی کے لیے پانی فراہم کرتے تھے۔ بمباری اور ایندھن کی کمی اس صورت حال کی بنیادی وجوہات ہیں۔
رفح کراسنگ کئی ماہ سے صہیونیوں کے قبضے میں ہے، جو غزہ میں سامان اور ایندھن کی آمد کا بنیادی راستہ تھا، اور اب ایندھن غزہ میں نایاب ہو چکا ہے، پانی کے پمپوں کو بھی چلانے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہے۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے بہت سے ہسپتال اور طبی مراکز بند ہو چکے ہیں جو بجلی کے لیے جنریٹرز پر منحصر تھے، اور بہت سے آلات کام نہیں کر رہے، اس وجہ سے، بغیر بیہوشی کے پیچیدہ آپریشن یا اعضا کاٹنے جیسے عمل غزہ سے باہر کے لوگوں کے لیے ناقابل یقین ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز دیرالبلح کے رہائشیوں سے کہا تھا کہ وہ شہر کے مغربی علاقوں میں منتقل ہو جائیں، یہ حکم الزوایڈا علاقے کو بھی شامل کرتا ہے، جہاں "شهداء الاقصی" ہسپتال واقع ہےاور جو دیرالبلح کا واحد ہسپتال ہے۔ لیکن یہ تمام کہانی نہیں ہے، دیرالبلح کا واحد پانی کا ذخیرہ بھی "شهداء الاقصی" ہسپتال کے قریب واقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ الزوایڈا علاقے اور "شهداء الاقصی" ہسپتال کے خالی ہونے کے ساتھ، یہ ذخیرہ بھی ناکارہ ہو جائے گا۔ اس سے قبل شہر کے دو اہم ذخائر ایندھن کی کمی کی وجہ سے ناکارہ ہو چکے تھے۔