0
Tuesday 27 Aug 2024 21:18

وفاقی و صوبائی حکومتیں بلوچستان میں قیام امن میں ناکام ہوگئی ہیں، پی ٹی آئی بلوچستان

وفاقی و صوبائی حکومتیں بلوچستان میں قیام امن میں ناکام ہوگئی ہیں، پی ٹی آئی بلوچستان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر داؤد شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں امن و امان برقرار رکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ فارم 47 کے حکمران مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں اور صاف و شفاف انتخاب اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے آنیوالے حکمرانوں کو موقع دیا جائے۔ کیونکہ جعلی مینڈیٹ کے ذریعے آنیوالے حکمران کمیشن و رشوت خوری میں مصروف ہیں۔ انہیں عوام سے کوئی سرورکار نہیں ہے۔ 30 اگست کو تمام طلباء نکل رہے ہیں، پی ٹی آئی جمہوری طریقے سے ان کے ساتھ ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنان و عہدراوں کو جعلی طریقے سے جیل میں بند کیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب رات بھر موسیٰ خیل، راڑہ شم اور دیگر ضلعوں اور شاہراہوں پر حکومتی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے بسوں سے کئی بے گناہ افراد کو اْتار کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ جس کی پاکستان تحریک انصاف شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت جو زور اور سیٹوں کی نیلامی کے ذریعے دانستہ مسلط کی گئی ہے، جس کے نمائندگان کرپشن، کمیشن پرسنٹیج کی وصولی میں مصروف عمل ہیں۔ عوام، تاجروں، ٹرانسپورٹروں، زمینداروں کو درپیش مسائل کی جانب توجہ دینے سے مکمل قاصر ہے اور موجودہ مرکزی و صوبائی حکومتیں امن و امان کے قیام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ بلوچستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار فارم 47 کی حکومت ہے۔ فارم 47 کی نالائق حکومت اور وزیراعلیٰ سو رہے ہیں۔ بلوچستان کابینہ کے تمام امیدواروں فارم 47 کی پیدوار ہیں۔ یہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی بجائے کرپشن و کمیشن میں مصروف ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ فارم 47 کے عہداران استعفیٰ دیکر گھر چلے جائیں۔ بلوچستان کو محرومیوں سے صرف عمران خان نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والے ہی بلوچستان کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ جعلی مینڈیٹ والوں کو گھر بھیج کر صاف و شفاف انتخابات کرائے جائیں، لوگوں کے تحفظات سن لئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کے ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں۔ حکومت اپنی توانائیاں پی ٹی آئی کے خلاف ضائع کرنے کی بجائے امن و امان کی بحالی مہنگائی، بے روزگاری کے خلاف استعمال کرے۔ حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھائے اور بلوچستان کے مسائل کا حل نکالے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی فارم 47 کی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ جتنا کمانا ہے کماؤ، لیکن عوام کی جان و مال کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ 30 اگست کو تمام طلباء نکل رہے ہیں، پی ٹی آئی جمہوری طریقے سے ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنان و عہدیداروں کو جعلی طریقے سے جیل میں بند کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی پر آج برا وقت ہے، لیکن یہ ظلم کب تک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو کوئٹہ میں ورکرز کنونشن نہیں ہونے دیا جا رہا ہے، ان سے کہا جا رہا ہے کہ ڈی سی سے اجازت لیں۔ اگر ہم اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو گھروں پر چھاپے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال، کاروبار، سماجی زندگی کے تحفظ کیلئے موجودہ اقدامات سے عوام کسی طور پر مطمئن نہیں ہیں۔ ریاست کے ذمہ داران کا فریضہ ہے کہ عوام کو احساس عدم تحفظ سے نکالے، دہشتگردی کا خاتمہ کرے، شاہراہوں کو تحفظ فراہم کرے، عوام اور ٹرک ڈرائیورز کے قتل عام میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاری کیلئے ٹھوس اقدامات اْٹھائے جائیں۔
خبر کا کوڈ : 1156512
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش