0
Thursday 12 Feb 2026 22:31

غزہ کی نسل کشی میں 2 ہزار سے زائد برطانوی شہریوں نے بھی صیہونی فوج کا ساتھ دیا، رپورٹ میں انکشاف

غزہ کی نسل کشی میں 2 ہزار سے زائد برطانوی شہریوں نے بھی صیہونی فوج کا ساتھ دیا، رپورٹ میں انکشاف
اسلام ٹائمز۔  غزہ کی نسل کشی میں دو ہزار سے زائد برطانوی شہریوں نے بھی حصہ لیا۔ بدھ کے برطانوی میڈیا آوٹ لیٹ Declassified UK کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دو ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیلی افواج کے ساتھ مل کر خدمات انجام دیں۔ رپورٹ ان اعداد و شمار پر مبنی ہے جو پہلی بار ایک فریڈم آف انفارمیشن درخواست کے ذریعے اسرائیلی حکام سے حاصل کیے گئے۔ تازہ رپورٹ میں شامل اعداد و شمار میں وہ اسرائیلی فوجی بھی شامل ہیں جو دوہری یا متعدد شہریت رکھتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے کے اعداد و شمار میں صرف 54 برطانوی شہریوں کو شمار کیا گیا تھا جو “لون سولجرز” کے طور پر اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ قانونی ماہرین نے Declassified کو بتایا کہ نئے اعداد و شمار نے سنجیدہ قانونی خدشات کو جنم دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 1,686 ایسے افراد اسرائیلی فوج میں شامل ہوئے جو برطانوی اور اسرائیلی دوہری شہریت رکھتے ہیں، جبکہ 383 افراد ایسے تھے جن کے پاس برطانوی، اسرائیلی اور کم از کم ایک اور ملک کی شہریت موجود تھی۔ یوں وہ ان 50 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے وسیع گروہ میں شامل ہیں جو متعدد شہریتیں رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے دستیاب عوامی اعداد و شمار صرف نام نہاد “لون سولجرز” تک محدود تھے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ غیر ملکی فوجی ہیں جن کے مقبوضہ فلسطین میں خاندانی رشتہ دار موجود نہیں ہوتے۔ کنیسٹ ریسرچ اینڈ انفارمیشن سینٹر کی ایک رپورٹ، جو پرانے اعداد و شمار پر مبنی تھی، کے مطابق اگست 2024ء تک برطانیہ سے تعلق رکھنے والے صرف 54 “لون سولجرز” اسرائیلی فوج کے لیے لڑ رہے تھے۔

پبلک انٹرسٹ لا سینٹر (PILC) کے قانونی ماہر پال ہیرون نے بڑی تعداد میں برطانوی شہریوں کی ممکنہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا: "جہاں قابلِ اعتماد شواہد برطانوی شہریوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں سے جوڑتے ہوں، وہاں کسی قسم کی استثنا نہیں ہونی چاہیے۔" انہوں نے مزید کہا: "جہاں دوہری شہریت رکھنے والے افراد ایسے یونٹس میں خدمات انجام دیتے رہے ہوں جو مبینہ طور پر مظالم میں ملوث رہے ہیں، وہاں حکام کو فوری تحقیقات کرنی چاہئیں اور اگر شواہد معیار پر پورا اتریں تو گرفتاری اور مقدمہ چلایا جانا چاہیے، جیسا کہ کسی بھی سنگین جرم میں کیا جاتا ہے۔" گزشتہ سال میٹروپولیٹن پولیس کے وار کرائمز یونٹ میں 240 صفحات پر مشتمل ایک شکایت جمع کرائی گئی تھی جس میں 10 برطانوی شہریوں کے نام شامل تھے، جن پر شہریوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے، اسنائپر فائر کے ذریعے ہلاکتوں، اور شہری علاقوں پر اندھا دھند حملوں کے الزامات عائد کیے گئے۔

اس کیس سے وابستہ قانونی ماہر مائیکل مینسفیلڈ، جو ایک برطانوی بیرسٹر ہیں، نے کہا: "برطانوی شہری قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ فلسطین میں ہونے والے جرائم میں کسی قسم کا تعاون نہ کریں۔" انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ یہ رپورٹ برطانیہ میں مختلف گروہوں کی جانب سے جاری قانونی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھانا ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والی اسرائیل کی ہولناک نسل کشی کی جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید جبکہ ہزاروں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں غزہ کا 90 فصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
خبر کا کوڈ : 1263741
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش