اسلام ٹائمز۔ بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے اہل تشیع کے خلاف تعصب آمیز اور امتیازی رویہ جاری رکھتے ہوئے ایک نیا ظالمانہ قانون وضع کیا ہے جس کے تحت اہل تشیع کے تمام وقف شدہ مذہبی مقامات کو ضبط کر کے حکومت کی ملکیت قرار دے دیا گیا ہے۔ بحرین کے اہل تشیع نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے اپنے مذہبی مقامات کی تاریخی خودمختار حیثیت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ مخالفین کی نظر میں یہ محض انتظامی فیصلہ نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر حکومتی اجارہ داری قائم کرنا ہے جسے کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ شیعہ مساجد اور امام بارگاہیں تاریخی لحاظ سے اہل تشیع کی ملکیت ہیں اور بحرینی حکومت کا یہ اقدام درحقیقت شیعہ برادری کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ یاد رہے اس نئے قانون کی روشنی میں حکومت کو شیعہ مذہبی مقامات پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جائے گا اور یوں وہ اہل تشیع کی مذہبی آزادی بھی ختم کر سکتی ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں اہل تشیع اپنے وقف کردہ مذہبی مقامات پر اختیار کھو بیٹھیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرینی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف بحرینی شہریوں کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے آل خلیفہ رژیم کے خطرناک عزائم بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ آل خلیفہ رژیم کے اہداف بحرینی معاشرے میں اہل تشیع کو کمزور کرنا اور ایک آمرانہ نظام حکومت قائم کرنا ہے۔ بحرینی شہری اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومت اب بھی اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر پورا کنٹرول رکھتی ہے اور ان مقامات کا اختیار شیعہ علماء کو سونپنے سے گریزاں ہے۔ دوسری طرف حکومت کے وقف سے متعلق اداروں کو بھی بادشاہ کے خلاف اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے اور جو بھی مخالفت کرتا ہے اسے اس کے عہدے سے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال 2011ء میں اس وقت سامنے آئی جب بادشاہ نے وقف کونسل کے تمام دس اراکین کو معزول کر دیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب کونسل کے سربراہ احمد حسین اور ان کے ڈپٹی احمد الوداعی نے بحرین کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے مساجد مسمار کرنے کی شدید مخالفت کی تھی۔ یہ مساجد قومی سلامتی کو خطرے کے بہانے مسمار کر دی گئی تھیں۔