1
Tuesday 7 Jul 2026 16:41

جامعہ نجف سکردو میں شہید رہبر انقلاب کی تشیع جنازہ کی مناسبت سے مجلس تحلیل و تکریم

جامعہ نجف سکردو میں شہید رہبر انقلاب کی تشیع جنازہ کی مناسبت سے مجلس تحلیل و تکریم
اسلام ٹائمز۔ حوزۂ علمیہ جامعۃ النجف سکردو میں رہبرِ شہیدِ انقلاب، آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی تشییعِ جنازہ اور تدفین کے عالمی مراسم کی مناسبت سے ایک باوقار مجلسِ تجلیل و تکریم منعقد ہوئی۔ اس اجتماع میں علماء، اساتذہ، دانشوروں، محققین، خطباء، شعراء، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی  علمی و فکری شخصیات نے شرکت کی۔ یہ نشست صرف ایک تعزیتی تقریب نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے اسلامی افکار، مقاومتی نظریات، امتِ مسلمہ کے مستقبل، نظریہ توحید پر مبنی جدید عالمی تمدن کی تشکیل اور عالمی سیاسی تبدیلیوں پر ایک فکری و علمی مذاکرہ ثابت ہوئی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض استاد محمد اشرف مظہر نے بہترین علمی انداز میں انجام دیے۔ تلاوتِ قرآنِ مجید کی سعادت حسین بشیر سلطانی نے حاصل کی۔ ترانۂ شہداء و رہبر مولانا ایوب صابری اور ان کے ہمنواؤں نے پیش کیا جس نے شرکاء کو رقت، عزم اور ولولے کی کیفیت سے ہمکنار کیا۔

حجۃ الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی نے تمام معزز علماء، دانشوروں، مہمانوں اور شرکائے محفل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی یاد میں منعقد ہونے والا یہ اجتماع صرف ایک تعزیتی مجلس نہیں بلکہ تجدیدِ عہد، فکری بیداری اور اسلامی مزاحمت کے تسلسل کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی پوری زندگی توحید، عدل، آزادی، عزتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف رہی۔ آپ کی فکر، خطابات، پیغامات اور عملی جدوجہد نے عصرِ حاضر میں اسلامی بیداری کو نئی قوت اور جہت  عطا کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم بھی اسی راستے کے وفادار تھے، ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ  شہید نے عملی طور پر ثابت کیا کہ قرآن اور مکتبِ اہل بیتؑ کی تعلیمات آج بھی ایک عادلانہ، باوقار اور خودمختار معاشرے کی تشکیل کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی جدوجہد امتِ مسلمہ کے لیے امید، استقامت اور عزت کا سرچشمہ ہے۔

آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جامعۃ النجف سکردو رہبرِ معظم کے علمی، فکری اور انقلابی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے گا۔ سینئر صحافی، مولف اور تجزیہ نگار قاسم نسیم نے جامعۃ النجف کو اس عظیم علمی و فکری اجتماع کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں دو قسم کے انسان پیدا ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو صرف آسائشوں کے لیے جیتے ہیں اور دوسرے وہ جو ایک نظریے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ انہوں نے رہبرِ معظم کو دوسری قسم کا کامل نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے استعماری قوتوں کے مقابلے میں استقامت کی نئی تاریخ رقم کی، جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور دینی علوم کو یکجا کر کے ایک مضبوط علمی معاشرہ تشکیل دیا، فکری، اقتصادی اور عسکری میدانوں میں پابندیوں کے باوجود کامیابی حاصل کی اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو چیلنج کیا۔ نامور خطیب اور مبلغ حجۃ الاسلام  اشرف تابانی نے کہا کہ جس طرح حضرت زینبؑ نے کربلا کے پیغام کو زندہ رکھا، اسی طرح امام خمینیؒ اور رہبرِ معظم نے اسلامی تمدن کے احیاء کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔

انہوں نے کہا کہ افراد شہید ہو سکتے ہیں لیکن مکتب اور نظریات کو شہید نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، خود انحصاری، شیعہ سنی وحدت اور استکبار سے آزادی کو رہبرِ معظم کے پیغام کا بنیادی محور قرار دیا۔ موصوف نے کہا کہ مغربی مفکرین اور ماہرین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے رہے ہیں کہ اسلامی انقلاب نے ایک نئے فکری اور تہذیبی تصور کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ  شہید کا مکتب افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک زندہ فکری و تمدنی تحریک ہے، جس کا اثر پوری امتِ مسلمہ میں بیداری، خود اعتمادی اور استکبار کے خلاف مزاحمت کی صورت میں نمایاں ہے۔ شاعر مولانا زہیر کربلائی نے اپنے انقلابی اشعار کے ذریعے رہبرِ معظم سے عقیدت کا اظہار کیا۔ ان کے کلام میں رہبری، ولایت، استقامت، شجاعت اور امتِ مسلمہ کی بیداری کو مرکزی حیثیت حاصل رہی جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔

محقق، مولف اور سماجی شخصیت  محمد حسن حسرت نے کہا کہ رہبر شہید قرآن کریم کی آیت :"مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ" کے عملی مصداق تھے۔ شہادت سے فرد کا اختتام نہیں بلکہ قوم کی نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ انہوں نے رہبرِ معظم کی قربانی کو نہضتِ کربلا کے تسلسل سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت نے ایران اور پوری امتِ مسلمہ کو مزید استقامت، خود اعتمادی اور عزت عطا کی۔ شاعر، ادیب اور خطیب حجۃ الاسلام سید سجاد اطہر نے بلتی زبان میں نہایت درد انگیز انداز میں رہبر شہید کا مرثیہ پیش کیا اور رہبرِ معظم سے اپنی دو ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی سادگی، شفقت، بصیرت اور امت سے محبت کو یاد کیا۔  حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید احمد رضوی نے نہج البلاغہ کی روشنی میں "بہترین انسان" کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم نے نفس کے خلاف جہاد، بصیرت، حکمت، فتنوں کی شناخت، پیچیدہ مسائل کے حل اور امت کی رہنمائی میں امیرالمؤمنینؑ کے بیان کردہ اوصاف کو عملی شکل دی۔ انہوں نے رہبرِ معظم کو "مصباح الظلمات" اور "کشاف العشوات" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عصرِ حاضر کے فکری اندھیروں میں امت کو روشنی فراہم کی۔

پاکستان کی مذہبی و سیاسی شخصیت حجۃ الاسلام مرزا یوسف حسین نے امیر المؤمنینؑ کی وصیت: "ظالم کا دشمن اور مظلوم کا مددگار بنو" کو رہبرِ معظم کی پوری زندگی کا خلاصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم نے اپنی جان بچانے کی بجائے قوم کے ساتھ رہ کر شہادت کو قبول کیا اور دنیا کے سامنے حقیقی قیادت کی مثال قائم کی۔  المصطفی یونیورسٹی کے مندوب حجۃ الاسلام انیس الحسنین نے کہا کہ جس طرح امام حسینؑ نے ذلت کے مقابلے میں عزت کو منتخب کیا، اسی طرح رہبرِ معظم نے عالمی استکبار کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا اور امتِ مسلمہ کو عزت، آزادی اور خودمختاری کا راستہ دکھایا۔ انجمن امامیہ بلتستان کے سربراہ حجۃ الاسلام  سید باقر حسین الحسینی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ شہادت ہمیشہ حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل بن کر سامنے آئی ہے۔ جس طرح حضرت امام حسینؑ کی شہادت نے بنی امیہ کے حقیقی چہرے کو دنیا کے سامنے آشکار کیا اور اسلامِ محمدیؐ اور اسلامِ اقتدار کے درمیان واضح امتیاز قائم کیا، اسی طرح رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شہادت نے بھی عصرِ حاضر میں ظلم، استکبار اور عالمی سامراج کے حقیقی چہرے کو پوری انسانیت کے سامنے بے نقاب کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب کے ذریعے اس حقیقی اسلام کو دوبارہ زندہ کیا جسے تاریخ کے مختلف ادوار میں مسخ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جبکہ رہبرِ  شہید نے اپنی بصیرت، استقامت اور مدبرانہ قیادت کے ذریعے اس انقلاب کو عالمی سطح پر ایک مؤثر فکری اور تہذیبی قوت میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت نے ظلم، دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کے اصل چہرے کو بے نقاب کیا اور یہ بھی دکھایا کہ مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کرنے والی حقیقی قیادت کون سی ہے۔ انہوں نے بلتستان اور پاکستان کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ نوجوان نسل کی فکری تربیت، دینی شناخت کے تحفظ اور اسلامی اقدار کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں علماء، خطباء، اساتذہ، والدین اور سماجی رہنماؤں کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو صحیح اسلامی فکر، مکتبِ اہل بیتؑ کی تعلیمات اور رہبرِ معظم کے پیغام سے جوڑا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ معظم شہید کا مشن صرف ایک ملک یا ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی عزت، آزادی، وحدت اور خودمختاری کا مشن ہے۔ اگر اس فکر کو علمی، تربیتی اور عملی میدانوں میں آگے بڑھایا جائے تو یہ امت کے مستقبل کی تعمیر میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تمام علماء، عمائدین، نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، بصیرت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ رہبرِ معظم کے پیغام کو عام کریں، اسلامی معاشرے کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنائیں اور آنے والی نسلوں تک اس مزاحمتی اور تمدنی فکر کو امانت کے طور پر منتقل کریں۔ صدر محفل آیت اللہ علامہ باقر مقدسی نے اپنے جامع خطاب میں واضح کیا کہ رہبرِ معظم کو صرف سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ دشمن کا اصل ہدف "نظامِ ولایتِ فقیہ" تھا۔ انہوں نے امام خمینیؒ کے پیش کردہ اسلامی نظام کو سرمایہ دارانہ، اشتراکی اور سیکولر نظاموں کے مقابلے میں ایک منفرد تہذیبی ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم نے اپنی فقاہت، بصیرت، شجاعت اور استقامت کے ذریعے اس نظریے کو عالمی سطح پر متعارف کرایا، اسی لیے عالمی استکباری قوتیں انہیں اپنے منصوبوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی تھیں۔

اختتامی خطاب میں جامعۃ النجف کے مدیر اعلی علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے کہا کہ دنیا کی آبادی کا محض ایک فیصد ایرانیوں پر مشتمل ہے، مگر آج پوری دنیا کی گفتگو دو عنوانات کے گرد گھوم رہی ہے: ایران اور امریکہ۔ ان کے مطابق امریکہ ظلم، استعماریت،انسان کشی اور جبر کی علامت کے طور پر جبکہ ایران مزاحمت، غیرت، ایمان، آزادی اور مظلوموں کی حمایت کی علامت کے طور پر دنیا کے سامنے موضوع سخن  ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی زندگی، ان کی شہادت اور ان کی تاریخی تشییع تین ایسے انقلابات ہیں جنہوں نے عالمی رائے عامہ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "نئے عالمی اسلامی تمدن" کا نظریہ مستقبل کی سب سے اہم فکری بحث ہے اور مسلم دنیا کی جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں کو اس پر سنجیدہ علمی کام کرنا چاہیے۔ حجۃ الاسلام توحیدی نے حجۃالاسلام شیخ اشرف تابانی کی زبانی سابق امریکی وزیرِ خارجہ Henry Kissinger کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس  نے اپنی تحریروں میں اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ اسلامی انقلابی قیادت ایک متبادل عالمی توحیدی نظام اور تہذیبی تصور پیش کرتی ہے، جسے مغربی نظام اپنے لیے ایک بنیادی چیلنج سمجھتا ہے۔ 

تقریب کے اختتام پر رہبرِ معظم شہید کے ایصالِ ثواب، امتِ مسلمہ کے اتحاد، عالمِ اسلام کی عزت، مظلوم اقوام کی نصرت، پاکستان کے استحکام، اور حضرت امام مہدیؑ کے ظہورِ مبارک کی تعجیل کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ یہ اجتماع اس حقیقت کا مظہر تھا کہ رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی شخصیت کو محض ایک قومی یا علاقائی قائد کے طور پر نہیں بلکہ ایک عالمی فکری، تہذیبی اور مزاحمتی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ان کی شہادت کسی تحریک کا اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے فکری و تہذیبی سفر کا نیا مرحلہ ہے جو امتِ مسلمہ میں آزادی، عدل، خودمختاری، وحدت اور اسلامی تمدن کے احیاء کی جدوجہد کو مزید تقویت دے گا۔
خبر کا کوڈ : 1290708
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش