0
Thursday 6 Aug 2026 01:10

آبنائے ہرمز بدھ یا جمعرات کو کھول دی جائے گی، ٹرمپ

آبنائے ہرمز بدھ یا جمعرات کو کھول دی جائے گی، ٹرمپ
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر، جو گزشتہ چند ہفتوں سے تیل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کا اعلان بدھ یا جمعرات کو کیا جا سکتا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کیلیفورنیا کے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے کے اعلان کے وقت سے متعلق سوال کے جواب میں ایک بار پھر کہا کہ یہ معاملہ جلد طے ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں پیش رفت ہو جائے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ (مذاکرات کے راستے میں) بہت زیادہ پیش رفت ہوئی ہے۔ اس سے قبل امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے آکسیوس نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 60 روزہ عارضی معاہدے کا اعلان بدھ کو کیا جائے گا۔ ان حالیہ دعوؤں نے تیل کی عالمی منڈی پر فوری اثر ڈالا اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔

بدھ کی صبح بین الاقوامی معیار کا برینٹ تیل 1.2 فیصد کم ہو کر 78.43 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدے کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو علاقائی عہدیداروں کے حوالے سے لکھا کہ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت جہاز ایک ایسے راستے سے خلیج فارس میں داخل ہوں گے جو ایران کے کنٹرول میں ہوگا، جبکہ باہر نکلنے کے لیے عمان کے زیرِ کنٹرول راستہ استعمال کیا جائے گا۔ ان عہدیداروں کے مطابق، بحری سلامتی اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے سروس فیس کے نام سے ایک رقم وصول کی جائے گی۔ ٹرمپ حکومت اس سے پہلے ایسے کسی بھی معاہدے کو مسترد کرتی رہی ہے جس سے ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہو۔

یہ اہم آبی گزرگاہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے پہلے کھلی تھی، لیکن ٹرمپ کی پالیسیوں اور خطے میں کشیدگی کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی۔ رمضان جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی، لیکن اب اس آبی گزرگاہ سے آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے۔ امریکی صدر نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں فیس وصول کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اگر کوئی فیس لینا چاہتا ہے تو ہم فیس لیں گے۔ ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود، علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور کسی بھی معاہدے کا تعلق ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری محاصرے کے خاتمے سے ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 1297427
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش