متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم نے گذشتہ کئی سالوں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ایران خطے میں گوشہ نشین ہو چکا ہے اور تعلقات پر مبنی روایتی نیٹ ورک کھو چکا ہے۔ لیکن نجف میں متعدد سیاسی، مذہبی اور عوام وفود کی رہبر شہید کے تشیع جنازے میں موجودگی اور عراقی عوام کی بھرپور شرکت نے اس تاثر کو باطل کر دیا ہے۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک علامت، سرکاری سطح پر انجام پانے والے معاہدوں سے کہیں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔ عراق علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا میدان بن چکا ہے۔ امریکہ، عرب ممالک، ترکی اور دیگر کھلاڑی اس ملک کے مستقبل میں زیادہ سے زیادہ حصہ دار بننے کے لیے کوشاں ہیں۔ مزید برآں، اس تقریب کا جائزہ "نرم طاقت" کے تناظر میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ نرم طاقت کا سرچشمہ صرف ذرائع ابلاغ یا پبلک ڈپلومیسی ہی نہیں بلکہ مذہبی تقریبات، تاریخی دن اور عوامی جذبات بھی نرم طاقت کے اہم ترین سرچشموں میں شمار ہوتے ہیں۔