متعلقہ فائیلیںرپورٹ: اعجاز علی
سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین، آل پارٹیز اور انجمن تاجران کا مشترکہ اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اضغر خان اچکزئی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، علامہ علی حسنین حسینی اور علامہ سہیل اکبر شیرازی، پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عادل بازئی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے سید عبدالواحد آغا، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے احمد جان خان، جمعیت علمائے اسلام (نظریاتی) کے مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مولانا عصمت سالم، مظلوم اولسی تحریک کے چیرمین صادق خان اچکزئی، نیشنل پارٹی کے چنگیز حئی بلوچ، ہزارہ ڈیوکریٹک پارٹی کے ایڈووکیٹ مشتاق حسین، انجمن تاجران کے صدر عبدالرحم کاکڑ سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔
اجلاس میں سانحہ زیارت، اس کے بعد رونماء ہونے والے واقعات اور حکومت کے ساتھ طے پانے والے تحریری معاہدے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت نے جن نکات پر فوری عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، ان پر آج تک کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ تشویشناک اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اجلاس میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی المناک شہادت، اس کے محرکات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس نے اس اندوہناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس افسوسناک سانحے کا ازخود نوٹس لیں، واقعے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، اس کے محرکات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
اجلاس میں کہا گیا کہ معاہدے میں شامل علاقوں، جن میں منگلہ، مانگی، تکتو، شابان، زرغون، زیارت، دکی، ہرنائی، کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ شامل ہیں، وہاں دوبارہ مسلح گروہوں کی نقل و حرکت اور موجودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف عوام کے جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں بلکہ ریاست کی عملداری پر بھی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اجلاس نے اس بات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ معاہدے کے مطابق ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا، جبکہ بعض علاقوں میں عوام کو اعتماد میں لئے بغیر سروے اور دیگر سرگرمیوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ اجلاس نے واضح کیا کہ سانحہ زیارت کی شفاف تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، جبکہ آل پارٹیز کانفرنس، متعلقہ اداروں کی بریفنگ اور معاہدے کے دیگر تمام نکات بھی سرد خانے کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف شہداء کے لواحقین سے ناانصافی ہے، بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید مجروح کر رہا ہے۔
اجلاس میں انجمن تاجران کے نمائندے نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبے بھر میں سینکڑوں آئل ٹینکرز، ٹرالروں اور تجارتی گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا جا چکا ہے، شاہراہیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہیں اور تاجروں کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا ہے، جبکہ حکومت کی رٹ عملاً کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اجلاس نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال، عوام کے جان و مال کے عدم تحفظ اور معاہدے پر عملدرآمد میں ناکامی کی تمام تر ذمہ داری وفاقی و صوبائی حکومت اور متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو اس کے نتائج مزید سنگین اور دور رس ہوں گے، جن کی ذمہ داری بھی حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہوگی۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ سانحہ زیارت کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ طے شدہ تحریری معاہدے پر بلا تاخیر مکمل عملدرآمد کیا جائے، جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فوری اعلان کیا جائے، معاہدے میں شامل تمام اجلاس اور بریفنگز کا انعقاد یقینی بنایا جائے، متاثرہ علاقوں سے مسلح گروہوں کا خاتمہ کرکے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور صوبے میں ریاست کی آئینی عملداری بحال کی جائے۔