متعلقہ فائیلیںپروگرام: دین و دنیا
موضوع: اربعین عالمی تحریک انسانیت
مہمان: علامہ ڈاکٹر محمد علی فضل صاحب
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی
اسلام ٹائمز اردو
آج دنیائے انسانیت ایک عظیم معجزے کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ اربعین حسینی کا یہ عالمی اجتماع، باوجود اس کے کہ گردوپیش ہر سمت جنگ کے بگولے گرج رہے ہیں اور خوف و ہراس کے پہاڑ سر اٹھائے کھڑے ہیں، پھر بھی عشقِ حسینؑ کے دیوانے ہر طرح کی پابندی سے آزاد ہو کر، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس سرزمینِ عشق پر یکجا ہو رہے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی جان کی پروا کیے بغیر، اپنے آقا کی یاد میں قدم بہ قدم منزلِ عشق کی طرف بڑھتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ رہبر معظم انقلاب، شہیدِ امت سید علی خامنہ ای کو اس سال کا سب سے پہلا زائرِ اربعین قرار دیا گیا – جو درحقیقت خود زیارتِ امامؑ کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کا ایک الہٰی پیغام ہے، تاکہ امت کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہی راستہ وہ شاہراہ ہے جس پر گامزن ہو کر انسان اپنے نفس کو مٹا کر "ولی اللہ" کا مقام پا لیتا ہے اور دنیا و آخرت میں وہ عزت حاصل کرتا ہے جو کسی اور راستے سے ممکن نہیں۔ زیارتِ اربعین کی فضیلت تو خود اپنی مثال آپ ہے، لیکن پیدل چلنا، وہ خاص عبادت ہے جہاں ہر قدم خاکِ مزار سے لگنے والی محبت میں ڈوب جاتا ہے، اور یہی مشقتِ راہ، نفس کی پاکیزگی اور روح کی طہارت کا باعث بنتی ہے – بےشک یہ قربِ الٰہی کا وہ زرین وسیلہ ہے جو ہر زائر کو معراجِ عشق تک پہنچا دیتا ہے۔
اربعین آج دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے، مگر یہ محض عددی کثرت کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانیت کا وہ زندہ درس گاہ ہے جہاں ہر رنگ، ہر نسل، ہر زبان اور ہر مسلک کا انسان اپنی شناخت بھول کر صرف "عاشقِ حسینؑ" کے نام سے پہچانا جاتا ہے – امیر و غریب، ہندو و سکھ، مسیحی و مسلمان، سب ایک صف میں کھڑے ہیں اور ان کا ایک ہی مذہب ہے، ایک ہی مسلک ہے، اور وہ ہے ذاتِ اقدسِ امام حسینؑ کی محبت۔ یہ اجتماع دراصل امام زمانہؑ کی عدل گستر حکومت کی ایک مختصر مگر گویا جیتی جاگتی جھلک ہے، جہاں بانٹنے والے بیشمار ہیں مگر لینے والے کم ہیں، جہاں کسی چیز کی کمی کا نام نہیں، نہ کوئی بھوکا ہے، نہ پیاسا، نہ کوئی اپنے آپ کو پردیس میں تنہا سمجھتا ہے – بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہر زائر اپنے ہی گھر کے کسی گوشے میں آرام سے بیٹھا ہے، جہاں محبت کی نہریں بہہ رہی ہیں اور اخوت کے پھول کھل رہے ہیں، اور یہی وہ منظر ہے جو ثابت کرتا ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کا غبار دھو لے تو وہ اس روشن راہ پر چل کر امن و سکون کی اس منزل کو پا سکتا ہے جو صرف اربعین کی راہوں پر ممکن ہے۔