امت شاہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور اراکین اسمبلی خطے سے متعلق مختلف عوامی مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں۔
عاشق حسین خان نے کہا کہ دہائیوں سے شیعہ مساجد، امام بارگاہیں، جلوس، علماء اور عام شہری دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں، مگر اس کے باوجود مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
احتجاجی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد امین انصاری نے کہا کہ خودکش حملہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ انسانیت، اسلام و ملک کے باغی و استعمارکے ایجنٹ ہیں، حکومت پنجاب مساجد و امام بارگاہوں و عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کا ...
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں شیعہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰؑ پر خودکش حملہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور ان کی ناکامی ہے، اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اپنے مختلف بیانات میں صوبائی وزراء علی مدد جتک، شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ اور مشیر مینا مجید نے اسلام آباد کی مسجد خدیجہ الکبریٰ میں دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کی۔
اپنے بیان میں علامہ آصف حسینی نے کہا کہ اب محض پیغامات اور رسمی مذمتیں ناکافی ہیں۔ ذمہ داران دہشتگردی کے اس اندوہناک واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو عبرتناک انجام تک پہنچائیں۔
وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے صدر مسلم کانفرنس کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے عملی اقدامات کا عندیہ دیا اور کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
سردار تنویر الیاس متعدد بار طلب کرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 فروری تک ملتوی کر دی، سردار تنویر الیاس کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
مولانا کوکب مصطفیٰ نے کہا کہ کربلا کسی ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
مقررین نے دھماکے کی پرزور مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات سے خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور زخمیوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات دی جائیں۔
ایران امریکا مذاکرت سے منسلک ایک علاقائی سفارتکار نے بتایا کہ تہران کا خیال ہے کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے افزودگی سے متعلق مؤقف کو سمجھتے نظر آئے، امریکی مذاکرات کاروں نے تہران کے مطالبات پر لچک کا مظاہرہ کیا۔
اپنے ایک جاری بیان مین افغان وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مساجد اور مقدس مذہبی شعائر کو نشانہ بنانا اسلامی اور انسانی اقدار کے منافی ہے، عبادت گزاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملے ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی بھی ملا۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ...
اپنے مذمتی بیان میں اصغریہ اسٹوڈنٹس کے مرکزی صدر کے کہا کہ دہشتگردانہ واقعات پوری قوم کے اتحاد اور بھائی چارے کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں، جنہیں کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
کویتی انٹیلیجنس چیف سے اپنی ایک ملاقات میں قاسم الاعرجی کا کہنا تھا کہ بغداد، دہشتگرد گروہ داعش کے غیر ملکی شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کی ہر ممکن کوشش کریگا۔
اپنے مذمتی بیان میں مرکزی جنرل سیکریٹری پرویز علی لاڑک نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، ریاستی و سیکیورٹی ادارے سانحہ ترلائی جامع مسجد میں ملوث دہشتگرد عناصر اور انکے سہولتکاروں کو بے نقاب کرتے ہوئے فوری گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے۔